تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 164
بد رُوح نکالنا حواریوں کی ایک اصطلاح تھی۔وہ بیماریوں اور مختلف قسم کی خرابیوں کو دیو کہا کرتے تھے اور حضرت مسیح ؑ ناصری کے پاس آکر درخواست کیا کرتے تھے کہ یہ دیو نکال دیں۔ان کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ یہ بیماریاں یا خاص قسم کی دماغی خرابیاں دُور کر دی جائیں۔اس قسم کے بعض بیمار تھے جن کا حضرت مسیح ؑ ناصری نے علاج کیا اور وہ اچھے ہو گئے۔اور جب ایک موقعہ پر حواری ایک بد رُوح کو نہ نکال سکے تو آپ نے فرمایا۔کہ یہ دیو روزوں اور دعائوں کے بغیر نہیں نکلتے۔یعنی کمالاتِ رُوحانیہ کا حصول روزوں اور دُعائوں کے ذریعہ ہی ہو سکتا ہے۔لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وہی مسیح ؑ ناصری جنہوں نے یہ کہا تھاکہ بڑی بڑی بیماریاں روزوں اور دعائوں کے بغیر نہیں نکل سکتیں۔انہی کی اُمّت آج روزوں سے اتنی بے خبر ہے اور وہ اتنا کھاتے ہیں کہ شاید ایشیائی ہفتہ بھرمیںبھی اتنا نہیں کھاتے جتنا وہ ایک دن میں کھا جاتے ہیں۔پس انہوں نے روزہ کیا رکھنا ہے وہ تو روزوں کے قریب بھی نہیں جاتے۔سال بھر میں صرف تین دن ایسے ہوتے ہیں جن میں وہ روزہ رکھتے ہیں لیکن ہندوئوں کی طرح جیسے وہ روزہ میں صرف چولھے کی پکی ہوئی چیز نہیں کھاتے۔مثلاً وہ پھلکا نہیں کھائیں گے لیکن دودھ دو دو سیر پی جائیں گے۔عیسائی بھی صرف چند چیزوں سے پرہیز کرتے ہیں باقی سب کچھ کھاتے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ روزے ہو گئے۔حالانکہ حضرت مسیح ؑ یہودیوں میں سے تھے اور یہودیوں میں روزہ بڑا مکمل ہوتا ہے اور پھر حضرت مسیح ؑ خود مانتے ہیں کہ کئی قسم کے دیو یعنی روحانی یا جسمانی بیماریاں ایسی ہیں جو روزہ رکھنے والے کی دعا سے دُور ہوتی ہیں اس کے بغیر نہیں ہوتیں۔یہودیت اور عیسائیت کے بعد ہندو مذہب کو دیکھا جائے تو ان میں بھی کئی قسم کے برت پائے جاتے ہیں اور ہر قسم کے برت کے متعلق الگ الگ شرائط اور قیود ہیں جن کا تفصیلی ذکر ان کی کتاب’’دھرم سندھو‘‘ میں پایا جاتا ہے۔انسا ئیکلو پیڈیا برٹینیکا میں بھی ہندو اور جین مت کے روزوں کا ذکر کیا گیا ہے اور زرتشتی مذہب کے متعلق بھی لکھا ہے کہ زرتشت نے اپنے پیروئوں کو روزے رکھنے کی تلقین کی تھی۔(انسا ئیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ Fasting) غرض روزہ روحانی ترقی کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو تمام مذاہب میں مشترک طور پر نظر آتا ہے اور تمام اُمتیں روزوں سے برکتیں حاصل کرتی رہی ہیں بلکہ آجکل تو ایک نئی قسم کا روزہ نکل آیا ہے کہ اگر کسی سے جھگڑا ہوا تو کھانا پینا چھوڑ دیا۔گاندھی جی نے انگریز کے مقابلہ میں اس قسم کے کئی مرن برت رکھے تھے۔بہرحال مذاہب کی ایک لمبی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ اللہ تعالیٰ کی رضاء حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے جس کی اہمیت مذہبی دنیا میں ہمیشہ تسلیم کی جاتی رہی ہے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جس صورت اورجس شکل میں اسلام نے اس کو پیش