تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 125

وہ بھوک کے مارے مرنے لگے اور وہ سؤر یا مُردار کا گوشت کسی قدر کھالے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ يَشْتَرُوْنَ جو لوگ اس (تعلیم )کو جو اللہ نے (الٰہی )کتاب (میں )نازل کی ہے چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے تھوڑی سی بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا١ۙ اُولٰٓىِٕكَ مَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا قیمت لیتے ہیں وہ یقیناً اپنے پیٹوں میں صرف آگ ڈالتے ہیں النَّارَ وَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَ لَا يُزَكِّيْهِمْ١ۖۚ وَ اور قیامت کے دن اللہ نہ ان سے کلام کرے گا اور نہ ان کو پاک قراردے گا اور لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۰۰۱۷۵ ان کے لئے درد ناک عذاب (مقدر )ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔وہ لوگ جو اس عظیم الشان تعلیم کو چھپاتے ہیں جسے خدا نے لوگوں کی ہدایت کے لئے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے اور اس کے بدلہ میں دنیوی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے پیٹوں میں آگ انڈیلتے ہیں۔یہ آیت حلت و حرمت کے مسائل کے بیان کرنے کے معاً بعد لا کر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جس طرح مُردار اور خون اور سؤر کا گوشت تم پر حرام ہے اور جس طرح غیر اللہ کے نام پرذبح کیا ہوا جانور کھانا تمہارے لئے گناہ ہے اسی طرح یاد رکھو کہ خدا اور اس کے رسول کے احکام کو چھپانا اور دنیوی مال وجاہ یا عہدوں کے حصول کو اپنی زندگی کا مقصد قرار دے دینا اور خدا تعالیٰ کو چھوڑ دینا بھی مُردار اور سؤر کا گوشت کھانے سے کم نہیں۔جس طرح وہ حرام خور ی ہے اسی طرح یہ بھی حرام خوری ہے کہ انسان دین سے واقف ہوتے ہوئے کلمہ حق کہنے سے احتراز کرے۔اور ڈرے کہ اگر میں نے اپنے عقیدہ کو نہ چھپایا یا خدا اور اس کے رسول کے احکام کا بر ملا اظہار کر دیا تو میری ملازمت جاتی رہے گی یا میری تجارت ماری جائےگی یا میرے دوستوں کے حلقہ میں میری عزت کم ہو جائےگی۔فرماتا ہے جو لوگ صحیح علم رکھنے کے بعد بھی منافقت سے کام لیتے ہیں اور