تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 117
بَاغٍ بَغَیَ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اور اَلْبَغْیُ کے معنے ہیں(ا) اَلظُّلْمُ ظلم (۲) اَلْجُرْمُ وَالْجِنَایَۃُ قصور (۳)اَلْعِصْیَانُ نافرمانی (۴) کُلُّ مُجَاوَزَۃٍ وَاِفْرَاطٍ عَلَی الْمِقْدَارِ الَّذِیْ ھُوَ حَدُّ الشَّیْءِ فَھُوَ بَغْیٌ کسی مقررہ حد سے تجاوز کرنا بھی بغی ہے۔(اقرب) اور اَلْبَاغِی سے مراد ہے (۱) اَلطَّالِبُ چاہنے والا (۲) اَلظَّالِمُ ظالم (۳) وَاَلْعَاصِیْ عَلَی اللّٰہِ وَالنَّاسِ اور وہ شخص جو اللہ تعالیٰ اور لوگوں کی مخالفت میں کھڑا ہوجائے۔عَادٍ حدّ سے گذر جانے والا یعنی جو قانون پر عمل کرتے کرتے کچھ زیادتی یا کمی کر دے۔اِثْمٌاس جگہ اس کے معنے سزا کے ہیں۔سبب کو مسبب کی جگہ استعمال کیا گیا ہے کیونکہ سزا کا سبب گناہ ہوتا ہے۔(۲) اِثْمٌ کے معنے گناہ کے بھی ہو سکتے ہیں۔تفسیر۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ شریعت اسلامیہ میں جن اشیاء کے کھانے سے منع کیا گیاہے۔وہ دو قسم کی ہیں اول حرام دوم ممنوع۔لُغۃً توحرام کا لفظ دونوں قسموں پر حاوی ہے۔لیکن قرآن کریم نے اس آیت میں صرف چار چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔یعنی ُمردار ، خون۔سؤر کا گوشت اور وہ تمام چیزیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے نام سے نامزد کر دیاگیا ہو۔ان کے سوا بھی شریعت میں بعض اور چیزوں کے استعمال سے روکا گیا ہے۔لیکن وہ چیزیں اشیاء ممنوعہ کی فہرست میں تو آئیں گی۔قرآنی اصطلاح کے مطابق حرام نہیں ہوںگی۔جیسے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نَھٰی عَنْ کُلِّ ذِیْ نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَعَنْ کُلِّ ذِیْ مِخْلَبٍ مِنَ الطَّیْرِ(مسلم کتاب الصّید والذبائح باب تحریم أکل کل ذی ناب من السباع۔۔۔) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلیوں والے درندے اور پنجوں والے پرندے کو کھانا ممنوع قرار دیا ہے۔اسی طرح ایک حدیث میں آتا ہے کہ نَھٰی عَنْ لُحُوْمِ الْحُمُرِ الْاِنْسِیَّۃِ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔(مسلم کتاب الصید والذبائح باب تحریم أکل لحم الحمر الإنسیۃ )۔یہ احکام اس آیت یا دوسری آیات کے مضمون کے مخالف نہیں ہیں۔کیونکہ جس طرح اوامر کئی قسم کے ہیں بعض فرض ہیں بعض واجب ہیں اور بعض سنت ہیں۔اسی طرح نہی بھی کئی اقسام کی ہے۔ایک نہی محرّمہ ہے اور ایک نہی مانعہ ہے اور ایک نہی تنزیہی ہے۔پس حرام چار اشیاء ہیں باقی ممنوع ہیں اور ان سے بھی زیادہ وہ ہیں جن کے متعلق نہی تنزیہی ہے۔یعنی بہتر ہے کہ انسان اُن سے بچے۔حرام اور ممنوع میں وہی نسبت ہے جو فرض اور واجب میں ہے۔پس جن اشیاء کو قرآن کریم نے حرام کہا ہے ان کی حرمت زیادہ سخت ہے اور جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم