تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 116

اَلْمَیْتَۃُ مَیْتٌکامؤنث ہے۔اور مَیْتَۃٌ سے مراد ہر ایسی چیز ہے جو بغیر کسی بیرونی سبب کے مرے اور اُسے ذبح نہ کیا جائے۔اور شریعت اسلام کے نزدیک اُسے بھی مُردار ہی کہتے ہیں جو ذبح نہ ہو خواہ ایسا جانور خودبخود مر جائے یا کوئی دوسرا اُسے مار دے۔دَمٌ کے معنے خون کے ہیں اور اس سے مراد دم ِمسفوح ہے جو ذبح کرنے سے بہہ جاتا ہے۔اندر کا خون مراد نہیں۔اُھِلَّ اَھَلَّ سے فعل ماضی مجہول کا صیغہ ہے اور اَھَلَّ الْھِلَالُ وَاُھِلَّ (مجہولًا) کے معنے ہیں ہلال ظاہر ہو گیا (۲)اَھَلَّ الْقَوْمُ الْھِلَالَ رَفَعُوْا اَصْوَاتَھُمْ عِنْدَ رُؤْیَتِہٖ۔لوگوں نے ہلال پر آواز بلند کی (چاند کو ہلال اسی لئے کہتے ہیں کہ اس کے دیکھنے پر آواز بلند کی جاتی ہے)(۳) اور اَھَلَّ الصَّبِیُّ ُّ کے معنے ہیں رَفَعَ صَوْتَہٗ بِالْبُکَاءِ یعنی بچہ رونے لگا۔(۴) اور جب اَھَلَّ الرَّجُلُ کہیں تو معنے ہوںگے نَظَرَ اِلَی الْھِلَالِ آدمی نے ہلال دیکھا (۵) اور اَھَلَّ الشَّھْرُ کے معنے ہیں ظَھَرَ ھِلَا لُہٗ نئے مہینے کا ہلال نکلا (۶) اَھَلَّ السَّیْفُ بِفُلَانٍ کے معنے ہیں قَطَعَ فِیْہِ تلوار نے اُسے کاٹ دیا۔(۷) اَھَلَّ الْعَطْشَانُ کے معنے ہیں رَفَعَ لِسَانَہٗ اِلٰی لُھَاتِہٖ لِیَجْتَمِعَ لَہٗ رِیْقُہٗ یعنی پیاسے نے اپنی زبان تھوک سے تر کرنے کے لئے حلق کے قریب کی۔(۸) اَھَلَّ اللّٰہُ السِّحَابَ کے معنے ہیں خدا تعالیٰ نے بادل برسایا (۹) اَھَلَّ الشَّھْرَکے معنےہیں رَأَی الْھِلَالَ چاند دیکھا۔(۱۰) اَھَلَّ ا لْمُلَبِیُّ کے معنے ہیں رفَعَ صَوْتَہٗ بِالتَّلْبِیَۃِ، یُقَالُ اَھَلَّ الْمُحْرِمُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ لَبّٰی وَرَفَعَ صَوْ تَہٗ۔محرم نے حج اور عمرہ کے لئے تلبیہ کیا اور آواز بلند کی۔(۱۱) اَھَلَّ فُلَانٌ بِذِکْرِ اللّٰہِ کے معنے ہیں رَفَعَ صَوْتَہٗ بِہٖ عِنْدَ نِعْمَۃٍ اَوْرُؤْیَۃِ شَیْءٍ یُعْجِبُہٗ فلاں شخص نے کوئی نعمت دیکھ کر ذکر الہٰی کے لئے اپنی آواز بلند کی (۱۲) اَھَلَّ بِالتَّسْمِیَۃِ عَلَی الذَّبِیْحَۃِ کے معنے ہیں قَالَ بِسْمِ اللّٰہِ ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا۔وَمَا اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ کے معنے ہیں نُوْدِیَ عَلَیْہِ بِغَیْرِ اسْمِ اللّٰہِ عِنْدَ ذَبْـحِہٖ۔جو جانور خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور کا نام لے کر ذبح کیا جائے۔(اقرب) اُضْطُرَّ ضَرَّ سے باب افتعال کا ماضی مجہول کا صیغہ ہے اور اِضْطَرَّہٗ اِلَیْہِ کے معنے ہیں اَحْوَجَہٗ وَاَلْجَاہٗ فَاضْطُرَّ بِصِیْغَۃِ الْمَجْھُوْلِ اَیْ اُلْجِیءَ(اقرب) اضطرار کسی شخص کو ایسے کام پر مجبور کر دینے کو کہتے ہیں جو اس کے لئے باعث ضر ر ہو یا اُسے ناپسند ہو۔یہ مجبوری خواہ بیرونی ہو جیسے تہد ید و تخویف یا اندرونی ہو جیسے قدرتی مطالبات اور طبعی حوائج یعنی بھوک وغیرہ۔ان دونوں میں سے کسی قسم کی مجبوری کے ماتحت انسان کام کرے تو اُسے اضطرار کہتے ہیں۔