تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 104
عَلَيْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنَ النَّارِؒ۰۰۱۶۸ کہ ان کےاعمال (کا نتیجہ چند) حسرتیں ہیں(جو) ان (ہی) پر( وبال ہوکر پڑیں گی )اور وہ (دوزخ کی) آگ سےہرگز نہیں نکل سکیں گے۔حل لغات۔کَرَّۃً اَلْکَرَّۃُ بِالْفَتْحِ اَلْمَرَّۃُ یعنی کرۃ کے معنے ایک دفعہ کے ہیں (اقرب) اَلْکَرُّ (مصدر) اَلْعَطْفُ عَلَی الشَّیْءِ کسی چیز کی طرف لَوٹنا(مفردات)پس آیت کے معنے یہ ہوںگے کہ وہ کہیں گے کہ کاش ہمیں ایک دفعہ اور لَوٹنے کا موقعہ مل جائے۔تفسیر۔فرمایا اس دنیا میں تو تم خدا تعالیٰ کے شریک بناتے اور اس کے نِدّ قرار دیتے ہو مگر وہاں جا کر تمہارا یہ حال ہو گا کہ تم واپس اس دنیا میں آنے کی خواہش کرو گے اور کہو گے کہ ہم تو خیال کرتے تھے کہ یہ معبود ہمارے کام آئیںگے مگر انہوں نے تو موقعہ پر آکر دھوکا دے دیا۔اس لئے ہمیں ایک بار پھر دنیا میںلَوٹا یا جائے تاکہ ہم بھی اُن سے ایسا ہی بے وفائی کا سلوک کرسکیں۔كَذٰلِكَ يُرِيْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَيْهِمْ فرماتا ہے ہم اُن کے اعمال انہیں اس حال میں دکھائیں گے کہ وہ حَسَرَاتٍ ہوںگے۔یعنی وہ اعمال انہیں حسرتیں ہی حسرتیں نظر آئیں گے اور وہ حسرتیں ایسی ہوںگی کہ جن کا وبال انہیں پر پڑےگا بعض حسرتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا غیروں پر اثر پڑتا ہے مگر فرماتا ہے وہ ایسی حسرتیں ہوںگی جن کا اثر خود انہیں پر پڑے گا دوسروں پر نہیں۔اس جگہ اگر حَسَرَاتٍ کو حال قرار دیا جائے تو رأی سے مراد رئویت عینی ہو گی اور اگر حَسَرَاتٍ کو مفعول قرار دیا جائے تو رؤیت قلبی مراد ہو گی اور معنے یہ ہوںگے کہ وہ خدا تعالیٰ سے کہیں گے کہ اگر ہمیں مبلّغ بنا کر دنیا میں بھیج دیا جائے تو ہم وہاں جاکر شوربرپا کر دیں گے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں۔وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنَ النَّارِ سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہیے کہ دوزخی آگ سے نکالے نہیں جائیں گے کیونکہ اس جگہ خدا تعالیٰ کے سلوک کا ذکر نہیں بلکہ ان کی اپنی کیفیت کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ خود اپنی ذاتی جدوجہد اور کوشش سے اس میں سے نکل نہیں سکیں گے اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے اگر ہم کہیں کہ بیمار ایک قدم بھی نہیں چل سکتا اور پھر اسے دوسرے دن ہسپتال لے جایا جائے تو کوئی شخص یہ نہیں کہےگا کہ کل تو تم نے یہ کہا تھا کہ بیمار ایک قدم بھی نہیں چل سکتا اور آج تم اسے ہسپتال داخل کر آئے ہو۔کیونکہ ہمارایہ مطلب نہیں تھا کہ غیر بھی اُسے وہاں نہیں لے جاسکتے اسی طرح اس آیت میں جس چیز کی نفی کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ خود دوزخ سے نہیں نکل سکیں گے۔یعنی اگر وہ