تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 560

تمہارے رب کی طرف سے ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔اور جس نے درجہ بدرجہ تمہیں ترقی دیتے ہوئے اس بلند مقام تک پہنچایا۔کیا ایسی اعلیٰ درجہ کی ربوبیت کرنیوالی ہستی کا کلام کبھی ٹل سکتا ہے پس اس کو ردّ کرنے کا کیا فائدہ۔اس سے تو تمہارا ہی نقصان ہو گا۔تم اگر ردّ بھی کرو گے تو یہ تعلیم ضرور پھیل کر رہے گی اس لئے اس کے انکار سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔میں ابھی چھوٹا تھا کہ میں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ ایک سٹرک پر جو مدرسہ احمدیہ کے پاس سے مہمان خانہ کو جاتی ہے۔کبڈی ہو رہی ہے۔لکیر جو حدِ فاصل ہوتی ہے کھینچی ہوئی ہے اور ہم ایک طرف ہیں اور غیر احمدی دوسری طرف۔غیر احمدیوں میں سے جوبھی ہماری طرف آتا ہے ہمارے آدمی اسے پکڑ کر بٹھا لیتے ہیں حتیّٰ کہ ان کے سارے آدمی ہماری طرف آگئے صرف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی پیچھے رہ گئے۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ انہوں نے بھی دیوار کی طرف منہ کر کے آہستہ آہستہ ہماری طرف چلنا شروع کیا اور جب لکیر پر پہنچے تو کہنے لگے کہ جب سارے ہی آگئے ہیں تو میں بھی آجاتا ہوں اور یہ کہہ کر وہ بھی ہماری طرف آگئے۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ یہ صداقت تو دنیا میں غالب آنےوالی ہے اور جب آخر میں تم نے ایمان ہی لانا ہے تو آج ہی کیوں نہیں مان لیتے۔چنانچہ دیکھ لو آخر مشرکین مکہ فتح مکہ کے دن آپؐ کے پاس آئے اور منتیں کرنے لگے کہ ہمیں معاف کر دیا جائے۔آپؐ نے فرمایا جائو۔لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ۔آج میں تمہیں کوئی سرزنش نہیں کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے۔ع قضائے آسماں است ایں بہر حالت شود پیدا (آئینہ کمالات اسلام ،روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲) یعنی یہ تو ایک آسمانی قضا ہے اور اس نے ضرور پورا ہونا ہے۔پھر تم انکار کر کے اپنی عاقبت کیوں خراب کرتے ہو۔خ خ خ خ