تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 559
چھپا رہا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب پر کمر بستہ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعویٰ نبوت فرمایا تو اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہیں باہر گئے ہوئے تھے واپس تشریف لائے تو آپ کی ایک لونڈی نے آپ سے کہا کہ آپ کادوست تو (نعوذباللہ) پاگل ہو گیا ہے اور وہ عجیب عجیب باتیں کرتا ہے۔کہتا ہے کہ مجھ پر آسمان سے فرشتے نازل ہوتے ہیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اُسی وقت اُٹھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر پہنچ کر آپ کے دروازہ پر دستک دی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔تو حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا کہ میں آپ سے صرف ایک بات پوچھنے آیا ہوں۔کیا آپ نے یہ کہا ہے کہ خدا کے فرشتے مجھ پر نازل ہوتے ہیں اور مجھ سے باتیں کرتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال سے کہ ایسا نہ ہو ان کو ٹھوکر لگ جائے تشریح کرنی چاہی۔مگر حضرت ابوبکرؓ نے کہا۔آپؐ تشریح نہ کریں اور مجھے صرف اتنا بتائیں کہ کیا آپؐ نے یہ بات کہی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس خیال سے کہ معلوم نہیں یہ سوال کریں کہ فرشتوں کی شکل کیسی ہوتی ہے اور وہ کس طرح نازل ہوتے ہیں؟ پہلے کچھ تمہیدی طور پر بات کرنی چاہی۔مگر حضرت ابوبکرؓ نے پھر کہا۔نہیں نہیں آپ صرف یہ بتائیں کہ کیا یہ بات درست ہے؟ آپؐ نے فرمایا۔ہاں درست ہے۔اس پر حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا۔میں آپ پر ایمان لاتا ہوں۔اور پھر انہوں نے کہا یارسول اللہ! میں نے دلائل بیان کرنے سے صرف اس لئے روکا تھا کہ میں چاہتا تھا کہ میرا ایمان مشاہدہ پر مبنی ہو۔دلائل پر اس کی بنیاد نہ ہو کیونکہ آپ کو صادق اور راستباز تسلیم کرنے کے بعد کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔غرض جس بات کو مکہ والوں نے چھپایا تھا اسے حضرت ابوبکرؓ نے اپنے عمل سے واضح کر کے دکھادیا۔اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَؒ۰۰۱۴۸ یہ (مذکورہ بالا) صداقت تیرے رب کی طرف سے ہے۔پس تو شک کرنے والوں میں سے ہرگز نہ بن۔حلّ لغات۔اِمْتَرَاءٌ کے معنے ہیں (۱) جھگڑا کرنا (۲) شک کرنا۔(المنجد) تفسیر۔فرماتا ہے۔یہ صداقت تیرے رب کی طرف سے ہے اور اس نے دنیا میں ایک دن پھیل کر رہنا ہے۔جس بات کے پورا ہونے کے متعلق انسان کو شبہ ہو اس کے متعلق تو وہ بہانہ بنا سکتا ہے کہ شاید وہ ٹل جائے لیکن ہمارا رسول تو جو کچھ کہتا ہے وہ ایک اٹل صداقت ہے جو ایک دن پوری ہو کر رہے گی۔اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ یہ حق