تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 539
بھی اللہ تعالیٰ کا کوئی خاص حکم نازل ہوا تھا۔یہ نہیں کہ آپ محض اجتہادی طور پر اہل کتاب کی اتباع میں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھا کرتے ہوں۔پس اگر قرآن کریم کے احکام جیسا کہ مفسرین لکھتے ہیں منسوخ بھی ہوتے ہیں تو چاہیے تھا کہ وہ آیت بھی قرآن کریم میں موجود ہوتی۔جس کی طر ف وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِيْ كُنْتَ عَلَيْهَاکے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔مگر وہ ہے نہیں۔پس ماننا پڑیگا کہ اگر قرآن کریم کا کوئی حصہ منسوخ ہوتا تھا تو پھر وہ قرآن کریم میں نہیں رکھا جاتا تھا لیکن اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا کوئی حصہ کبھی منسوخ نہیں ہوا بلکہ جو حکم منسوخ ہونا ہوتا تھا اُسے وحی متلو میں اتارا ہی نہیں جاتا تھا۔بیت المقدس چونکہ عارضی قبلہ تھا اور مستقل قبلہ خانہ کعبہ بننے والا تھا۔اس لئے وہ حکم قرآنی وحی سے علیٰحدہ نازل ہوا اور بعد میں منسوخ کر دیا گیا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام احکام جن کو بعد میں منسوخ قرار دے دیا گیا تھا وہ قرآن میں نازل نہیں کئے گئے تھے۔اگر وہ احکام قرآن میں موجود تھے اور پھر منسوخ کر دیئے گئے تھے تو ضروری تھا کہ وہ قرآن میں اپنی اصلی شکل میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتے مگر اُن کا قرآن کریم میں موجود نہ ہونا بتلاتا ہے کہ منسوخ ہونے والی وحی قرآن کریم سے علیحدہ ہوتی تھی۔جیسا کہ بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم قرآن میں کہیں موجود نہیں۔لیکن اس حکم کا منسوخ ہونا بتاتا ہے کہ اس بارہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ضرور کوئی وحی نازل ہوئی تھی مگر چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ اس حکم نے منسوخ ہوجانا ہے اس لئے اسے قرآنی وحی میں شامل نہ کیا گیا۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی دو قسم کی ہوا کرتی تھی ایک قرآنی اور دوسری غیر قرآنی۔قرآنی وحی ہر قسم کے نسخ سے بالا تھی۔مگر غیر قرآنی وحی منسوخ بھی ہو جاتی تھی جیسا کہ تحویل قبلہ کے متعلق پہلا حکم منسوخ کر دیا گیا۔قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً ہم تیری توجہ کا باربار آسمان کی طرف پھرنا دیکھ رہے ہیں۔اس لئے ہم تجھے ضرور اُس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَيْثُ جسے تو پسند کرتا ہے۔سو (اب) تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیرلے۔اور (اے مسلمانو!) تم (بھی) جہاں کہیں ہو مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا اُس کی طرف اپنے منہ کیا کرو۔اور جن( لوگوں ) کو کتاب (یعنی تورات) دی گئی ہے وہ یقیناً جانتے ہیں