تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 538
پر ایمان لاتے اور ہم اس گھر سے تمہارا دائمی تعلق پیدا نہ کرتے۔کیونکہ اگر بیت اللہ کو قبلہ مقرر نہ کیا جاتا تو ابراہیمی پیشگوئی کی عظمت دنیا پر واضح نہ ہوتی اور اللہ تعالیٰ یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ تم دُعائے ابراہیمی کے مصداق پر تو ایمان لائو اور تمہارا خانہ کعبہ کے ساتھ تعلق قائم نہ ہو۔اسی طرح وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْمیں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ ابتلاء ایمان کو ضائع کرنے کے لئے نہیں آتے بلکہ سچے ایمان کو ظاہر کرنے اور جھوٹے کے جھوٹ کو کھولنے کے لئے آتے ہیں اور اس لئے بھی آتے ہیں کہ ان سے حکمتِ احکام ظاہر ہو کر علم میں ترقی ہوتی ہے جیسا کہ تحویلِ قبلہ کے حکم سے مسلمانوں کے علم میں ترقی ہوئی۔اور اگر ایک طرف ان کے ایمانوں کی مضبوطی لوگوں پر ظاہر ہوگئی تو دوسری طرف خود انہیں بھی معلوم ہو گیا کہ پہلے بیت المقدس کی طرف اور پھر بیت اللہ کی طرف منہ کرنے کا کیوں حکم دیا گیا تھا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی کیا کیا حکمتیں کام کر رہی تھیں چونکہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِيْ كُنْتَ عَلَيْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَيْهِ اس لئے یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ شاید ابتلائوں کا آنا ایک ظلم ہے جو ایمان کوضائع کر دیتے ہیں۔اس شبہ کے ازالہ کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابتلائوں سے مومنوں کا ایما ن ضائع نہیں ہوتا بلکہ صرف نام نہاد مومنوں کا ایمان ضائع ہوتا ہے ورنہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ زید پختہ مومن ہو اور پھر ٹھوکر کھا جائے۔وہ اگر ٹھوکر کھاتا ہے تو صرف اس لئے کہ وہ پہلے ہی صحیح معنوں میں مومن نہیں تھا۔پس ابتلاء مومنوں کے ایمانوں کو ضائع کرنے کے لئے نہیں بلکہ سچے مومنوں کی روحانی عظمت اور ان کے ایمانوں کی پختگی ظاہر کرنے اور احکام الہٰیہ کی حکمت ظاہر کرنے کے لئے آیا کرتے ہیں۔ریورنڈ وہیری نے اس موقعہ پر اعتراض کیا ہے کہ جب لوگوں کو ابتلاء آیا تو محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) نے نعوذ باللہ یہ بہانہ بنایا کہ یہ ایک امتحان ہے۔حالانکہ یہ آیتیں تحویلِ قبلہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی ہیں۔پس جب ابھی حکم نازل ہی نہیں ہوا تھا تو ابتلاء کس کو آنا تھا۔اسی طرح سَیَقُوْلُ السُّفَھَآءُ کے الفاظ بھی بتاتے ہیں کہ یہ آیتیں پہلے کی نازل شدہ ہیں۔پس وہیری کا یہ اعتراض محض تعصب پر مبنی ہے۔اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا کوئی حکم منسوخ نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے کہ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِيْ كُنْتَ عَلَيْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَيْهِ یعنی ہم نے اس قبلہ کو جس پر تو پہلے سے قائم تھا صرف اس لئے مقرر کیا تھا تاکہ ہم ظاہر کر دیں کہ کون اس رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاتا ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کے متعلق