تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 504

کہاں سے استدلال کیا ہے مگر میں نے اس سے اگلی آیت سے استدلال کیا ہے کیونکہ اگلی آیت میں حنیف ہی کی تشریح ہے اور تمام رسولوں کے ماننے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے یہود کہتے ہیں کہ یہودی بننے میں نجات ہے اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ عیسائی بننے میں نجات ہے مگر دونوں کی بات غلط ہے۔اصل بات یہ ہے کہ نہ یہودی کہلانے سے کام بنے گا نہ نصرانی کہلانے سے۔بلکہ ابراہیمی ملّت کی پیروی کرنے سے نجات ہو گی۔یہاں یہ نہیں فرمایا کہ ابراہیمی کہلانے سے نجات ہو گی کیونکہ یہ پھر ویسی ہی بات ہو جاتی جیسی انہوں نے کہی تھی اس لئے فرمایا کہ ہدایت حاصل کرنے کا ذریعہ یہ ہے کہ انسان ہدایت کا راستہ اختیار کرے۔یہی طریق ابراہیمؑ کا تھا جو ہر وقت خدا کے حکموں کی طرف کان لگائے رکھتا تھا۔محض یہودی یا عیسائی کہلانے سے کچھ نہیں بن سکتا۔اصل بات یہ ہے کہ دنیا میں جس قدر مذاہب پائے جاتے ہیں ان سب کے پیروؤں میں اپنے تنزّل کے زمانہ میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ شاید اسی مذہب میں شامل ہو کر نجات میسر آسکتی ہے لیکن یہ ایک غلط خیال ہے۔نجات کا اصلی باعث فضل ِ الہٰی ہوتا ہے اور فضل الہٰی کو جذب کرنے کا ذریعہ اطاعت ِ الہٰی ہے۔پس جب تک کسی سچے مذہب میں شامل ہو کر اطاعت ِ الہٰی ہو اُس وقت تک تو اس میں نجات کا امکان ہے۔لیکن جب اطاعت نہ ہوتی ہو تو کوئی نجات نہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں یہود اور نصاریٰ کو جو زور دیتے ہیں کہ ہدایت پانا چاہو تو ہمارے مذہب میں داخل ہو جائو پھر ڈانٹا ہے کہ کیا کسی مذہب کا نام لینے سے نجات حاصل ہو سکتی ہے ؟ نجات حاصل کرنے کا طریق یہ ہے کہ ملّت ابراہیم کی اتباع کی جائے اور ابراہیم ؑ کا طریق یہ تھا کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حکم بھی ملا۔انہوں نے اُس کو قبول کر لیا۔یہی دین ابراہیم ؑ ہے۔اور اسی کی پیروی ہر اس قوم پر فرض ہے جو ابراہیم ؑ کی بزرگی کی قائل ہے۔حنیف کے معنے جیسا کہ اوپر بتا یا جا چکا ہے ایسے شخص کے ہیں جو ضلالت سے منہ موڑ کر ہدایت اور راستی کی طرف جھکا ہوا ہو۔اسی طرح حنیف اس شخص کو بھی کہتے ہیں جو اسلام کا کلّی طور پر والہ و شیدا ہو اور اس کی طرف اپنی تمام تو جہات کو مرکوز رکھتا ہو۔اور ابو القلابہ نے جو ایک بہت بڑے مفسر اور تابعین میں سے ہیں حنیف کے معنے ایسے شخص کے کئے ہیں جو اول سے آخر تک تمام انبیاء پر ایمان لائے اور کسی ایک کا بھی انکار نہ کرے۔پس حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حنیف قرار دے کر بتایا گیا ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کی عبادت اور فرمانبرداری کے لحاظ سے ایک ایسے مقام پر فائز تھے کہ ضلالت کی طرف ایک معمولی میلان بھی اُن کے تصوّرات سے بالا تھا۔اور خدا تعالیٰ کے احکام کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری اُن کا شیوہ تھا اس کے بعد فرمایا وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۔ابراہیم ؑ مشرکوں