تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 493

کہتے ہیں اُن کے انعامات ہمارے لئے کہاں مقدّر ہیں۔حضرت موسیٰ۔حضرت داؤد۔حضرت سلیمان اور حضرت مسیح علیہم السلام کا ذکر آتا ہے تو کہتے ہیں کہ جو کچھ خدا نے انہیں دیاوہ ہمیں کب میّسر آسکتا ہے۔غرض جب بھی وہ کوئی اچھی چیز دیکھتے ہیںتو کہتے ہیں کہ یہ ہمیں نہیں مل سکتی۔پھر اُن کے اندر دعا کے وقت جوش کس طرح پیدا ہو سکتا ہے۔مگر ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اِس مقام پر پہنچایا ہے کہ جب ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ کے انبیاء کا ذکر آتا ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا وہ ہمیں بھی دے سکتا ہے اور ہمارے لئے بھی وہ مراتب قرب کھلے ہیں جو پہلے لوگوں نے حاصل کئے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو انعامات ہمیں ملتے ہیںوہ اُن کو نہیں ملتے۔غرض مَنْ يَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے ذریعہ جو تعلیم دنیا میں آئی ہے وہ انسانی قوتوں کو اُبھارنے والی اور اُس کے نفس کو ترقیات کے بلند مینار تک لے جانے والی ہے۔وہ یہ نہیں کہتی کہ انسان گنہگار پیدا ہوا ہے۔بلکہ کہتی ہے کہ انسان فطرتاً نیک پیدا ہوا ہے اور نیکی میں ترقی کرنے کیلئے پیدا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر مسلمان کے دل میں یہ خواہش پائی جاتی ہے کہ میں اور نیکیاں کروں اورخدا تعالیٰ کے قرب میں بڑھ جاؤں لیکن جب یہ عقیدہ رکھا جائے کہ انسان گنہگار پیدا ہوا ہے تو پھر انسان مردہ ہو جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ مجھے کسی نیک عمل کی کیا ضرورت ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان اس تعلیم کو چھوڑ ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ تعلیم بڑی فوائد والی ہے اور اس سے وہی شخص اعراض کرسکتا ہے جو اپنے نفس کے حقوق پہچاننے سے بھی عاری ہو۔اِصْطَفَيْنٰهُ فِي الدُّنْيَا میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دنیا میں صفوۃ اور بزرگی بخشی تھی وہ خدا تعالیٰ کا چنیدہ بندہ تھا۔اُسے دوسروں پر فضیلت حاصل تھی اورخدا تعالیٰ کا قرب نصیب تھا۔وَ اِنَّهٗ فِي الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ اورآخرت میں بھی وہ یقیناً اُن بندوں میں شمار ہو گا جو جنتی زندگی کے مناسب حال اعمال بجالانے والے ہوں گے۔اِس سے صاف طور پر یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ جنّت میں بھی عمل ہے اور وہ ایسا مقام نہیں جیسا کہ مسلمان اس کا عام طور پر نقشہ کھینچا کرتے ہیں کہ وہاں ہر شخص بیکار بیٹھا ہو ا رات دن کھانے پینے میں مشغول رہےگا۔اگر ایسا ہوتا تو یہاں یہ کہنا چاہیے تھا کہ وہاں اتنی حوریں ملیں گی۔اتنے باغ ملیں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا۔بلکہ اسکی بجائے وَاِنَّہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ فرمایا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگلے جہان میں بھی نیک عمل ہوگا۔ورنہ کیا کوئی شخص یہ تصوربھی کر سکتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اگلے جہان میں نعوذ باللہ بے نماز ہوں گے۔یا وہاں اللہ تعالیٰ کے قرب میں بڑھنے کا احساس اُن کے دل میں نہیں