تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 492
اُس نے اپنے آپ کو ہلاک کیا اور برباد کر دیا۔اس لحاظ سے اِس آیت کے یہ معنے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مخالفت کرنے والے خواہ مشرکین مکہ ہوں یا یہود اور نصاریٰ انہیں یہ بات یاد رکھناچاہیے کہ اگر وہ دعائے ابراہیمی کے اِس مصداق کو قبول نہیںکریںگے اور بیت اللہ کے قیام کے مقاصد اور ہاجرہؓ اور اسما عیل ؑ کے مکہ میں قیام کی اصل غرض کو نظر اندازکر دیںگے تو وہ اپنی جان کو آپ ہلاک کرنے والے ہوں گے۔یعنی اس لحاظ سے بھی اُن پر ہلاکت نازل ہو گی کہ وہ ہر قسم کی اعلیٰ تعلیم سے محروم رہیںگے اور اس لحاظ سے بھی ان پر ہلاکت نازل ہو گی کہ وہ خدائی عذاب میں گرفتار ہو ںگے جیسے ابو جہل نے تعلیم اسلامی پر عمل نہ کیا تو اُس پر خدا تعالیٰ کا فضل نازل نہ ہوا۔یہ ایک طبعی نتیجہ تھا جو پیدا ہوا لیکن اس کے علاوہ ایک شرعی نتیجہ بھی اُس نے دیکھا اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ نے اُسے سزادی اور وہ جنگ بدر میں دو انصاری لڑکوں کے ہاتھوں نہایت ذلّت کے ساتھ ہلاک ہوا۔(بخاری، کتاب المغازی ،باب قتل ابی جہل) سَفِہَ نَفْسَہٗکے چوتھے معنے جَھِلَہٗ کے ہیں۔اِس لحاظ سے آیت کے یہ معنی ہیں کہ اُس شخص کے سوا جو اپنے نفس کو اعلیٰ درجہ کے حقائق سے بے خبر رکھنا چاہتا ہے ملّتِ ابراہیمی سے کون اعراض کر سکتا ہے ؟ اِس میں یہ بتایا گیا ہے۔کہ دعائے ابراہیمی کے نتیجہ میں جو عظیم الشان تعلیم دنیا کو ملی ہے یہ انسان کی اندرونی قابلیتوں کو اُبھار کر اُسے کامیابیوں کے اعلیٰ مقام تک لے جاتی ہے۔اور سوائے ایسے شخص کے جو اپنے نفس کا دشمن ہوا ور اُسے اعلیٰ تعلیم سے باخبر رکھناپسند نہ کرتا ہواور کوئی اس کا انکار نہیں کر سکتا۔ہاں وہ شخص جو ترقی کی دوڑ میں کسی دوسرے سے پیچھے نہیں رہنا چاہتا وہ اسے کسی حالت میں بھی نہیں چھوڑ سکتا۔کیونکہ اُس کے چھوڑنے سے نفس انسانی پر غفلت اور جمود کا طاری ہو جانا ایک لازمی امر ہے۔جیسے موجود ہ زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کرنے والوں میں ایک عام جمود اور بے حسی پائی جاتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم نمازیں بھی پڑھتے ہیں۔روزے بھی رکھتے ہیں۔حج بھی کرتے ہیں۔زکوٰۃ بھی دیتے ہیں۔صدقہ وخیرات میں بھی حصّہ لیتے ہیں۔مگر ہمیں خدا نہیں ملتا حالانکہ اُن کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب وہ نمازمیں کھڑے ہو کر اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہہ رہے ہوتے ہیں تو ساتھ ہی وہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے لئے تمام تر قیات کے دروازے بند ہیں۔اور جب کسی انسان کا یہ خیال ہو تو اُسے نمازمیں وہ جوش کس طرح پیدا ہو سکتا ہے جو اُسے خدا تعالیٰ تک پہنچا دے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر آتا ہے۔تو وہ کہتے ہیں۔ابراہیمی انعامات میں ہم کہاں شریک ہو سکتے ہیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر آتا ہے تو کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انعام انہیں ملا وہ ہمیں کب مل سکتا ہے۔حضرت اسحٰق علیہ السلام کا ذکر آتا ہے۔تو