تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 473
کھیتوں کو خراب نہ کر سکیں۔اُسے کتبہ کہتے ہیں۔یہ بھی کتاب کا مصدر ہے۔اِسی سے آگے حروف کو دوسرے حروف سے جوڑنے کے معنے پیدا ہو گئے۔کتاب کا لفظ لکھی ہوئی چیز کیلئے زیادہ تر استعمال ہوتا ہے۔گو محاورہ میں نہ لکھے ہوئے کلام کو بھی جو کہ معیّن ہو اور یاد کرایا جا تا ہو کتاب کہہ دیتے ہیں۔(اقرب)لغت والے اس کی مثال الٓمّٓ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ کو پیش کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیںدیکھو الٓمّٓ کو ذٰلِکَ الْکِتٰب کہا ہے۔حالانکہ الٓمّٓ ابھی نازل ہو رہا تھا۔اور لکھا ہوا نہ تھا۔اِس سے ظاہر ہے کہ غیرمکتوب چیزیں بھی کتاب کہلاتی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نہ لکھی ہوئی چیز کو بھی کتاب کہہ دیتے ہیں۔لیکن لغت والوں کا اس سے یہ استدلال غلط ہے کیونکہ ذٰلِکَ کا اشارہ الٓمّٓ کی طرف نہیں بلکہ اس کا اشارہ سورۃ فاتحہ کی طرف ہے جو پہلے نازل ہو چکی تھی اور لکھی بھی جا چکی تھی۔لیکن خواہ اس کا اشارہ الٓمّٓ کی طرف ہو یا ساری سورہ بقرۃ کی طرف ہو یا سارے قرآن کریم کی طرف ہو۔اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ غیر لکھی ہوئی چیز کے لئے کتاب کا لفظ لایا گیا ہے۔کیونکہ بعض دفعہ جس بات کا ابتداء سے فیصلہ کر لیا گیا ہو اسی کے مطابق نام رکھ دیاجاتا ہے۔جیسے ماں باپ اپنے بچوں کا نام عبدالرحمٰن رکھ دیتے ہیں جس کے معنے ہیں اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کو ظاہر کرنے والا۔اب کیا اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ بچہ ماں کے پیٹ ہی میں یہ صفت ظاہر کرنے والا تھا ؟بلکہ اِس کے صرف اتنے معنے ہوتے ہیں۔کہ وہ آئندہ بڑے ہو کر اس صفت کو ظاہر کرے گا۔اِسی طرح قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے۔فَاَنْجَيْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ (الشعرآء : ۱۲۰)کہ ہم نے نوح ؑ اور اُس کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔اب اس کے یہ معنے نہیں کہ جو پہلے ہی بھری ہوئی تھی اُس میں انہیں سوار کیا کیونکہ جو کشتی پہلے سے بھری ہوئی ہو اُس میں سوار کرنے کے کیا معنے۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی کشتی میں سوار کیا جو اُن کے بیٹھنے کی وجہ سے بھر گئی۔پس جو فعل آئندہ کسی سے صادر ہونے والا ہو اس کی وجہ سے بھی نام دے دیا جاتا ہے۔اِسی طرح ذٰلِکَ الْکِتٰبُ کا الٓمّٓ کی طرف اشارہ نہیں کہ اس سے یہ سمجھا جائے کہ کتاب کا لفظ غیر لکھی ہوئی چیز کے لئے آیا ہے بلکہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ ایک کامل کتاب بننے والی ہے اور اللہ تعالیٰ اِس کے متعلق فیصلہ فرما چکا ہے۔کتاب کا لفظ اس چیز کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے جس کے اندر کوئی لکھی ہوئی چیز ہو۔جیسے قرآن کریم میں آتا ہے۔وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا فِيْ قِرْطَاسٍ (الانعام: ۸۱) یعنی اگر ہم تجھ پر ایک کتاب نازل کرتے جو کاغذ وں پر ہوتی۔غرض کتاب کے کئی معنے ہیں۔محاورہ میں اس کے معنے ایسی چیز کے ہیںـ جسے قائم کر دیتے ہیں۔یا جس کا اندازہ کر لیتے ہیںیا جسے واجب کر دیتے ہیںیا فرض کر دیتے ہیں یا پختہ کر لیتے ہیں۔اِن سب کیلئے کتاب کا لفظ استعمال