تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 465 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 465

میں یہ کوئی ذکر نہیں تھا کہ بیت اللہ کی تعمیر کس کے ہاتھوں ہوئی۔مگر اب فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس گھر کی بنیادیں کھڑی کیں۔اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی بنیادیں رکھی تھیں۔مگر یہ درست نہیں۔کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے یَضَعُ الْقَوَاعِدَ نہیں فرمایا بلکہ یَرْفَعُ الْقَوَاعِدَ فرمایا ہے۔اگربنیاد رکھنے کا ذکر ہوتا تو وَضَعَ کا لفظ استعمال کیا جاتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے۔کہ بیت اللہ پہلے سے موجود تھا مگر اس کی عمارت منہدم ہو چکی تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اس کی بنیادوں کو بلند کیا۔اور بیت اللہ کی ازسرِ نو تعمیر کی۔قرآن کریم کی بعض اور آیات سے بھی اس مضمون کی تصدیق ہوتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ایک مقام پر فرماتا ہے۔اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِيْنَ (اٰلِ عمران:۹۷) یعنی سب سے پہلا گھر جو تمام لوگوں کے فائدہ کے لئے بنایا گیا وہ ہے جو مکّہ مکرمہ میں ہے۔وہ تمام جہانوں کے لئے برکت والا اور ہدایت کا مقام ہے۔اسی طرح خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور جو دعائیں کیں اس کے بعض الفاظ یہ ہیں کہ رَبَّنَاۤ اِنِّيْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ(ابراہیم :۳۸)یعنی اے ہمارے رب! میں نے اپنی اولاد میں سے بعض کو تیرے معزز گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں لا بسایا ہے جس میں کوئی کھیتی نہیں ہوتی۔یہ دُعا بھی بتاتی ہے کہ بیت اللہ وہاں پہلے سے موجود تھا کیونکہ یہ دعا اس وقت کی ہے جب حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ابھی بچے تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہاجرہ اور اسمٰعیل کو وہاں لا کر بسادیا تھا۔اُس وقت وہ دعامیں عِنْدَ بَيْتِكَ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جگہ اُنکو الہاماً بتائی گئی تھی اور انہیں بتایا گیا تھا کہ یہ پہلا گھر ہے جو خدا تعالیٰ کے لئے تعمیر ہوا۔اسی طرح قرآن کریم نے ایک مقام پر بیت اللہ کو بَیْتُ الْعَتِیْقِ بھی قرار دیا ہے چنانچہ فرماتا ہے۔وَ لْيَطَّوَّفُوْا بِالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ(الحج :۳۰)یعنی لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس قدیم ترین گھر کا طواف کریں۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بیت اللہ بہت پرانا گھر ہے یا یوں کہو کہ وہ پہلی عبادت گاہ ہے جو دُنیا میں تیار کی گئی۔پس حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کے بانی نہیں بلکہ انہوں نے صرف اس کی عمارت کی تجدید کی تھی اور اس کی اصلی بنیادوں پر اُسے کھڑا کیا تھا۔احادیث سے بھی اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آنے سے پہلے بیت اللہ کے نشانات موجود تھے۔چنانچہ بخاری میں لکھا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام ہاجرہ اور اسمٰعیل کو وہاں چھوڑ کر واپس جانے لگے تو فَقَالَتْ: یَا اِبْرَاھِیْمُ اَیْنَ تَذْ ھَبُ وَ تَتْرُکُنَا بِھٰذَالْوَادِی الَّذِیْ لَیْسَ فِیْہِ اَنِیْسٌ وَ لَا شَیْءٌ ؟ فَقَالَتْ لَہٗ ذٰلِکَ مِرَارًا وَجَعَلَ لَایَلْتَفِتُ اِلَیْھَا فَقَالَتْ لَہٗ : آاَللّٰہُ اَمَرَکَ بِھٰذَا؟ قَالَ نَعَمْ! قَالَتْ اِذًا لَا