تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 464

طاری ہو جائیگی کہ وہ بدیوں کی طرف کھینچا چلا جائےگا اور اس کا پیچھے قدم ہٹا نا مشکل ہو جائے گا۔کیونکہ جب انسان کسی بدی میں پھنس جاتا ہے تو پھر اس کے لئے چھٹکارا حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔پس اس میں کسی جبر کی طرف اشارہ نہیں بلکہ احتیاط کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔چنانچہ آگے فرماتا ہے وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۔اگرمجبور کرنا مراد ہوتا ہے تو بِئْسَ الْمَصِیْرُکہنے کا کوئی مطلب نہیں تھا۔یہ الفاظ اس لئے لائے گئے ہیں کہ انسان کو توجہ دلائی جائے کہ اُسے اس بارہ میں بڑی احتیاط سے کام لینا چاہیے اور بدی کے ارتکاب سے بچنا چاہئے ورنہ اس کے اندر بدی کے لئے ایک اضطرار کی سی کیفیت پیداہو جائے گی۔یہی حالت انسان کے دوسرے افعال میں بھی پائی جاتی ہے۔چنانچہ بڑے بڑے تعلیم یافتہ لوگ بھی بعض دفعہ عجیب عجیب حرکتیں کرتے ہیں۔جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ پہلے انہوں نے کوئی حرکت چند بار کی اور پھر انہیں اس کی عادت پڑگئی۔اسی طرح نیکی اور بدی دونوں کی ابتداء انسان کے اپنے اختیار سے ہوتی ہے مگر انتہاء اضطرار پرہوتی ہے۔اور چونکہ ابتداء انسان کے اختیار سے ہوتی ہے اس لئے اس کی انتہاء بھی اختیار کے تابع سمجھی جاتی ہے۔مثلاً جس انسان کو نماز کی پرانی عادت ہو اسے نماز کا ثواب برابر ملتا چلا جاتا ہے۔کیونکہ اس نے ارادہ سے اس کی ابتداء کی ہوتی ہے۔یہی حال بدی کا ہوتاہے انسان اُسے اپنے اختیار سے شروع کرتا ہے لیکن آخر میں اضطرار تک حالت پہنچ جاتی ہے اور پھر اگر وہ اس سے بچنا بھی چاہے تو بچ نہیں سکتا اور وہ اس بدی کا غلام بن جاتا ہے۔اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ چونکہ یہ لوگ ایسے مقام پر پہنچ چکے تھے کہ اپنے آپ کو بدی کرنے پر مجبور پاتے تھے۔اس لئے خدابھی انہیں مجبور کر کے دوزخ کی طرف لے جائے گا اور انہیں اپنے عمل کے مطابق بدلہ مل جائےگا۔وَ اِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَ اِسْمٰعِيْلُ١ؕ اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب ابراہیم ؑ اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہا تھا اور (اس کے ساتھ) اسمٰعیل بھی ( اور وہ دونوں رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۰۰۱۲۸ کہتے جاتے تھے کہ) اے ہمارے رب ! ہماری طرف سے ( اس خدمت کو) قبول فرما۔تو ہی (ہے جو) بہت سننے والا (اور) بہت جاننے والا ہے۔تفسیر۔اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ بیت اللہ کو ہم نے مثابہ اور امن کا مقام بنایا ہے۔اس