تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 439
ہے لیکن ہر نبی ساری دنیا کے لئے اُسوہ نہیں ہوتا۔انبیاء سابقین میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی ایک ایسی شخصیت ہیں جن کا تمام اقوام میں ادب اور احترام پایا جاتا ہے۔عیسائیوں کو ہی دیکھ لو۔وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اتنا ادب نہیں کرتے جتنا حضر ت ابراہیم علیہ السلام کا کرتے ہیں بلکہ دوسرے نبیوں پر تو وہ کئی قسم کے الزام بھی لگاتے ہیں صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وہ خاص طور پر ادب کرتے ہیں کیونکہ ان کو وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت میں سے مانتے ہیں۔ورنہ باقی انبیاء کو تو وہ چور اور بٹمار کہنے سے بھی باز نہیں آتے(یوحنا باب۱۰آیت۸) مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بڑا ادب کرتے ہیں یہی معنے اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا کے ہیں یعنی ہم تجھے ایک ایسا وجود بنائیں گے کہ لوگ تیرے اقوال و افعال کی اقتداء کرینگے۔چنانچہ حج جو اسلامی عبادات میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔انہوں نے ہی قائم کیا اور آج تک دنیا حج کے ذریعے ان کو یاد کرتی ہے۔اسی طرح ہر قربانی کے موقعہ پر وہ یاد کئے جاتے ہیں۔ہم اگرچہ اُمتِ محمدیہؐ میں سے ہیں مگر ہم بھی عیدالاضحیہ کے موقعہ پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کو یاد کرتے ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے اسلام میں کوئی دن مقرر نہیں کیا گیا کہ جس سے اُن کے کسی فعل کی یاد تازہ ہو۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد کے لئے ایک خاص دن مقرر کر دیا گیا ہے۔پس امامت سے مراد نبوت نہیں بلکہ اُن کا اُسوہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم تجھے تمام لوگوں کے لئے ایک نمونہ بنائیںگے اور لوگ تیری اقتداء کرتے رہیں گے۔شیعہ دوست کہا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ایسے وقت میں فرمایا ہے جبکہ آپ نبی بن چکے تھے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام کا مقام نبی سے بالا ہوتا ہے۔اُن کی یہ بات تو بالکل درست ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو امامت نبوت کے دعویٰ کے بعد دی گئی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امام اپنے لغوی معنوں کے لحاظ سے کوئی ایسا عہدہ ہے جو نبوت کے بعد ملتا ہے۔اگر یہ ایسا عہدہ ہے جو نبوت کے بعد ملتا ہے تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ بعض نبی ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی اقتداء ضروری نہیں ہوتی کیونکہ لُغت نے امام کے یہ معنے بتائے ہیں جس کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے۔پس اگر یہ ایسا عہدہ ہے جو نبوت سے فائق ہے تو ماننا پڑے گا کہ بعض نبی ایسے بھی ہوئے ہیں جن کی اطاعت و فرمانبرداری فرض نہیں تھی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت بھی اس سے پہلے فرض نہ تھی حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَآ اَرْسَلْنَامِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ (النّساء:۶۵) یعنی ہم نے کوئی ایسا رسول نہیں بھیجا جس کی اطاعت دوسروں پر فرض نہ کی گئی ہو۔اس سے معلوم ہوتا