تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 438

خواہ وہ نیک ہوں یا بد اچھی ہوں یا بُری ظاہر کرنا۔جب اس لفظ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو اور کہا جائے۔اِبْتَلَی اللّٰہُ فُلَانًا تو اس سے دوسرے معنے مراد ہوتے ہیں۔یعنی کسی کی پوشیدہ قابلیتوں کو ظاہر کردیا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات عالم الغیب ہے اُسے خود کوئی بات معلوم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔(مفردات) کَلِمَۃٌ کے معنے حکم کے ہوتے ہیں اور حکم میں اوامرونواہی دونوں شامل ہیں۔(مفردات راغب) اَ لْاِمَامُ کے معنے ہیں اَلْمُؤْ تَمُّ بِہٖ جسے اُسوہ بنایا جائے۔اور جس کے قول و فعل کی اقتداء کی جائے۔(۲)عربی زبان میں کتاب کو بھی امام کہتے ہیں۔(مفردات)کیونکہ اس کے احکام کو مانا جاتا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے تم اُس وقت کو بھی یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اندرونی نیکی اور تقویٰ کو لوگوں پر ظاہر کرنا چاہا۔تاکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مخفی رُوحانی طاقتیں اور قابلیتیں اُن کو معلوم ہو جائیں چنانچہ ان قابلیتوں کو ظاہر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اُن کو کچھ احکام دیئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان احکام کو پورا کر دیا۔اور اس طرح دُنیا کو معلوم ہو گیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام میں اطاعت اور فرمانبرداری کی جو اعلیٰ طاقتیں و دیعت ہیں وہ دوسروں میں نہیں ہیں۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو خدا تعالیٰ کی راہ میں ذبح کر دیں۔جب وہ ظاہری طور پر اس پر عمل کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہماری یہ مراد نہیں بلکہ کچھ اور مراد ہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ کا منشاء اس رنگ میں ظاہر ہوا کہ اُس نے انہیں حکم دیا کہ وہ ہاجرہ اور اسمٰعیل کو ایک وادی غیر ذی زرع میں چھوڑ آئیں۔چنانچہ وہ انہیں وہاں چھوڑ آئے اور اس امتحان میں کامیاب ہو گئے اور اس طرح دنیا کو معلوم ہو گیا کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہر بات پر لبّیک کہنے والے ہیں۔خواہ بادی النظر میں وہ کتنی ہی بھیانک اور خوفناک کیوںنہ ہو۔یہاں وَاِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰھٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فرمایا ہے اور کَلِمٰتٍ جمع کا صیغہ ہے مگر مشہور اُن کے بیٹے کے ذبح کا واقعہ ہے لیکن طالمود میں لکھا ہے کہ اُن کی دس ۱۰ آزمائشیں ہوئی تھیں۔(جوزف بارسلے کی طالمود صفحہ۱۰۸) اِنِّیْ جَا عِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَا مًا میں امامت سے نبوت مراد نہیں کیونکہ نبوت تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پہلے ہی حاصل ہو چکی تھی۔اس جگہ امامت سے انہیں لوگوں کے لئے ایک نمونہ اور مقتدیٰ بنانا مراد ہے اور لِلنَّاسِ سے مراد انسانوں کا عظیم الشان گروہ ہے۔درحقیقت اِس میں آئندہ کے متعلق ایک وعدہ کیا گیا تھا۔ورنہ اُس زمانہ میں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ صرف چند ہی لوگ تھے۔چنانچہ دیکھ لو آج دنیا کے کثیر حصہ میں وہ امام اور مقتدیٰ سمجھے جاتے ہیں اور بڑے ادب اور احترام کے ساتھ ان کا نام لیا جاتا ہے۔یوں تو ہر نبی اپنی قوم کے لئے اُسوہ ہوتا