تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 414

وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ۰۰۱۱۸ کسی سابق نمونہ کے) پیدا کرنے والا ہے۔اور جب وہ کسی امر (کے عالمِ وجود میں لانے )کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اس کے متعلق وہ صرف یہ کہتا ہے کہ تو ہو جا سو وہ ہو جاتا ہے۔حَلّ لُغَات۔قَضٰی کے معنے ہیں (۱)خَلَقَ۔اِن معنوں میں اس لفظ کا استعمال قرآن کریم میں اور جگہ بھی آتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ (حٰم السّجدۃ:۱۳) یعنی جو دنیا اُس نے پیدا کی تھی اُسے اس نے سات آسمانوں کی صورت میں بنایا (۲) اَعْلَمَ یعنی اُس نے اُسے بتادیا۔علم دے دیا۔قرآن کریم میں آتا ہے۔وَ قَضَيْنَاۤ اِلٰى بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ فِي الْكِتٰبِ (بنی اسراءیل:۵)ہم نے تورات میں بنی اسرائیل کو یہ بات بتا دی تھی(۳) اَمَرَ حکم دیا۔جیسے آتا ہے۔وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ (بنی اسراءیل:۲۴) کہ تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ تم صرف اُسی کی عبادت کرو۔(۴) حجت پوری کر دینا۔الزام قائم کر دینا۔جیسے کہتے ہیں۔قَضٰی عَلَیْہِ الْقَاضِیْ۔قاضی نے اُس پر حجت قائم کر دی یا اُس کے متعلق فیصلہ کر دیا۔(۵) پورا کر دینا۔جیسے آتاہے۔فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ(القصص:۳۰)جب موسیٰ ؑنے اپنی مقررہ مدت پوری کر دی(۶) ارادہ کرنا۔جیسا کہ فرمایا۔فَاِذَا قَضٰی اَمْرًا(البقرۃ:۱۱۸)۔جب وہ کسی بات کا ارادہ کرتا ہے۔(اقرب) اَمْرٌ کے بھی کئی معنے ہیں۔(۱)دین جیسے ظَھَرَ اَمْرُ اللّٰہِ کے معنے ہیں اللہ کے احکام نازل ہو گئے(۲) بات جیسے آیت اِذَا جَاءَ اَمْرُنَا(ھود:۴۱) میں ہے ہماری بات کے پورا ہونے کا وقت آگیا(۳) عذاب۔جیسا کہ قُضِیَ الْاَمْرُ(البقرۃ:۲۱۱) میں ہے (۴) قَضٰی اَمْرًا کے معنے قرآن کریم سے الہامِ الہٰی کے نزول کے بھی معلوم ہوتے ہیں۔ان معنوں کے علاوہ اس کے اور بھی کئی معنے ہیں۔تفسیر۔یہود کا یہ دعویٰ کہ نجات بنی اسرائیل کے ساتھ مخصوص ہے گو ایک غلط دعویٰ تھا مگر اُن میں اتنی معقولیت ضرور پائی جاتی تھی کہ وہ دوسروں کو تبلیغ نہیں کرتے تھے۔مگر عیسائیوں کا یہ دعویٰ کہ نجات اُن سے مخصوص ہے نہ صرف ایک غلط دعویٰ ہے بلکہ اِس میں یہ غیرمعقولیت بھی پائی جاتی ہے کہ وہ اس دعویٰ کے باوجود دوسروں کو بھی تبلیغ کرتے ہیں اور انہیں اپنے مذہب کی دعوت دیتے ہیں اور پھر اِس غیر معقولیت کی بناء اس غیر معقول عقیدہ پر رکھتے ہیں کہ مسیح ابن اللہ تھا اور اب وہی لوگ نجات پا سکتے ہیں جو خدا کے بیٹے پر ایمان لائیں گے۔اللہ تعالیٰ اس کی تردید میں کئی دلائل دیتا ہے اور فرماتا ہے خداتعا لیٰ کے لئے کسی ولد کا ماننا اس لئے درست نہیں کہ وہ پاک ہے یعنی