تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 413
اور ملک بھی فتح ہوںگے۔یہ پیشگوئی اس وقت کی گئی تھی جب مُٹھی بھر مسلمان ہر قسم کے مصائب میں سے گزررہے اور آزمائشوں میں ڈالے جا رہے تھے اور ان کا مستقبل سخت تاریک دکھائی دیتا تھا۔لیکن یہ پیشگوئی جلد ہی فتح مکہ کی شکل میں پوری ہو گئی اور تمام عرب اسلام کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گیا۔اور ایک صدی سے بھی کم عرصہ میں اسلام کا جھنڈا قریباً تمام ممالک میں لہرانا شروع ہو گیا۔وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ کے الفاظ میں اِس طرف بھی اشارہ ہے کہ اسلام کے لئے پہلے مشرق میں پھیلنا مقدر ہے اور پھر آخری زمانہ کے موعود کی بعثت کے بعد وہ مغرب میں بھی پھیل جائے گا۔سو مغرب کو اس کے لئے تیار رہنا چاہیے کیونکہ و ہ زمانہ اب دُور نہیں۔سورج نکل چکا ہے اور اس کی شعاعیں انہیں بیدار کر رہی ہیں۔اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِيْمٌبھی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس آیت کا قبلہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ بڑی وسعت والا ہے۔وہ جسے چاہے دولت میں بڑھاوے اور پھر وہ علیم بھی ہے۔وہ جانتا ہے کہ کن لوگوں کے پاس لوگ سُکھ اور آرام پا سکتے ہیں۔جس کے پاس رہ کر لوگوں کو آرام ملتا ہے اُسی کو حکومت ملا کرتی ہے۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری جماعت کے متعلق بھی پیشگوئیاں ہیں کہ اُسے دنیوی ترقیات حاصل ہوں گی۔مگر اللہ تعالیٰ دنیوی حکومتیں اُسی کو دیتا ہے جس سے لوگ زیادہ سے زیادہ آرام حاصل کر سکیں۔پس تم بھی اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ نافع الناس وجود بنائو اگر تمہاری بھی وہی حالت ہو کہ خدا کے بندے تم سے دُکھ پائیں تو پھر کوئی وجہ نہیں ہو گی کہ دنیا کی باگ ڈور تمہارے ہاتھ میں دی جائے۔اور ایک ظالم کو بدل کر دوسرا ظالم کھڑا کر دیا جائے۔وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ اور وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے (اپنے لئے )ایک بیٹا بنا لیا ہے (ان کی بات درست نہیں) وہ (تو ہر کمزوری سے) پاک وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ۰۰۱۱۷بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ہے۔بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اسی کا ہے۔سب اس کے فرمانبردار ہیں۔وہ آسمانوں اور زمین کو (بغیر