تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 388
اور پھر صبر کرے تو صبر صبر کہلانے کا مستحق ہو گا کیونکہ یہ بدلہ لینے کی طاقت رکھتے ہوئے صبر کرتا ہے اگر کوئی شخص قید میں کوٹھڑی کے اندر بند ہو۔کوئی راستہ اُس کے نکلنے کا نہ ہو۔اور وہ کہے کہ میں صبر کر کے بیٹھا ہوا ہوں تو یہ اس کا صبر نہیں ہو گا۔کیونکہ اگر دروازہ کھلا ہوتا اور کوئی اُس کو نہ روکتا تو وہ ضرور قید سے نکل جاتا۔اس کا اس وقت قید میں چپ بیٹھے رہنا اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اُس کے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔پس اُس کا یہ صبر صبر نہیں کہلائے گا۔غرض انسانوں کے مقابلہ میں صبر ہمیشہ وہ ہوتا ہے جو عندالمقدرت ہو۔بے شک بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کمزور ہوتا ہے۔اس میں بدلہ لینے کی طاقت اور ہمت ہی نہیں ہوتی۔اور وہ خیال کرتا ہے کہ اچھا میں صبر کرتا ہوں۔مگر اُسے ہم صبر نہیں کہہ سکتے۔صبر یہی ہے کہ وہ دیکھے کہ مجھ میں اتنی طاقت ہے کہ میں بدلہ لے سکتاہوں لیکن پھر بھی وہ عفو سے کام لے۔وَ قَالُوْا لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ اور وہ (یعنی یہودی اور مسیحی یہ بھی) کہتے ہیں کہ جنت میں سوائے ان (لوگوں )کے جو یہودی ہوں یا نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِيُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ مسیحی ہوں ہرگز کوئی داخل نہ ہو گا یہ (محض )ان کی آرزوئیں ہیں۔تو (انہیں ) کہہ دے کہ اگر تم كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۰۰۱۱۲ سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔تفسیر۔یہ مضمون مختلف شکلوں میں قرآن کریم میں تین دفعہ آیا ہے۔پہلی دفعہ سورۂ بقرہ آیت۸۱ میں یہ مضمون اِس طرح بیان کیا گیا ہے کہ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً یعنی یہ لوگ کہتے ہیں کہ آگ ہمیں چنددن سے زیادہ نہیں چھوئے گی۔گویا اہل کتاب دوزخ میں جائیں تو سہی۔مگر اللہ تعالیٰ ان سے رعایت کا معاملہ کرے گا اور چند دنوں کے بعد جو اُن کی کتابوں میں زیادہ سے زیادہ بارہ ماہ تک شمار کئے گئے ہیں اُن کو دوزخ میں سے نکال لیا جائے گا۔بلکہ بارھواں مہینہ بھی ختم نہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اُن کو آگ سے نکال لے گا۔دوسری دفعہ یہ مضمون سورۃ بقرہ آیت۹۵ میں اِس طرح آیا ہے کہ قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ