تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 387

رہی ہوں۔اور اُن بدیوں کے مقابلہ کے لئے تیار رہے جو اس کو آئندہ پیش آنے والی ہوں۔اسی طرح صبر کے ایک معنے یہ ہیں کہ انسان استقلال کے ساتھ اُن نیکیوں پر قائم رہے جو اس کو حاصل ہو چکی ہوں اور اُن نیکیوں کے حصول کی کوشش کرے جو اس کو ابھی ملی نہیں۔غرض استقلال کے ساتھ بدیوں کا مقابلہ کرنے، استقلال کے ساتھ نیکیوں پر قائم رہنے اور استقلال کے ساتھ آئندہ نیکیوں کے حصول کے لئے کوششں کرنے کانام صبر ہے۔دوسرے معنے صبر کے یہ ہیں کہ انسان جزع فزع نہ کرے۔جب کوئی مصیبت آپڑے تو گھبرائے نہیں اور ہمت نہ ہارے۔اگر اس کا کوئی عزیز مرتا ہے یا اس کا مال کھویا جاتا ہے۔یا اسی قسم کا کوئی اور واقعہ پیش آتا ہے تو وہ اس امر کو مدنظر رکھے کہ جو کچھ اُس کے پاس ہے وہ اُس کا نہیں بلکہ بطور انعام خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو ملا ہوا ہے اور صبر سے کام لے۔پھر اس صبر کی بھی آگے دو قسمیں ہیں۔ایک اُن معاملات میں صبر کرنا جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور بندوں کا ان میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔اور دوسرے اُن معاملات میں صبر کرنا جو بندوں کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔جو معاملات اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اُن کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص کا کوئی رشتہ دار فوت ہو گیا یا بیمار ہو گیا۔یا ملک میں قحط پڑ گیا یا کوئی ایسی جنگ چھڑ گئی جس کی وجہ سے اُس کے کاروبار میں گھاٹا پڑ گیا۔یہ ایسے واقعات ہیں کہ اِن میں انسان کا کوئی دخل نہیں۔اِن میں خدا تعالیٰ کی رضا پر استقلال کے ساتھ قائم رہنا صبر کہلاتا ہے۔لیکن ایسے معاملات جو بندوں کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اُن میں بعض دفعہ انسان ہاتھ پائوں ہلا سکتا ہے۔لیکن پھر بھی اگر کوئی شخص اس پر سختی کرتا اور اس کو دکھ دیتا ہے تو وہ مقابلہ نہیں کرتا مثلاً کوئی اُس کو تھپڑ مارتا ہے تو وہ آگے سے بولتا نہیں۔خدا تعالیٰ تو اگر اُس کی جان بھی لے لے تو وہ بول نہیں سکتا۔لیکن اگر کوئی شخص اُسے تھپڑمارے تو یہ بھی مناسب جواب دے سکتا ہے۔اگر اس کو تھپڑ مارنا ہی مناسب ہو۔تو تھپڑ مار سکتا ہے اور اگر اس وقت تھپڑ مارنا قومی فوائد کے لحاظ سے یا اس شخص کی اصلاح کے نقطہ نگاہ سے مناسب نہ ہو تو تھپڑ نہیں مارتا۔بہرحال ایسی حالت میں اگر کوئی شخص خاموش رہتا ہے تو یہ صبر کہلاتا ہے لیکن اس حالت میں ضروری ہے کہ یہ شخص بُزدل نہ ہو اور اس وجہ سے چپ نہ ہو کہ دوسرا شخص بھی مجھے آگے سے مارے گا۔خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں تو اس کا چُپ رہنا اور صبر کرنا عدمِ مقدرت پر مبنی ہو گا۔لیکن انسانوں کے مقابلہ میں اس کا صبر عندالمقدرت ہو گا۔یعنی اگر وہ بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے لیکن اس لئے بدلہ نہیں لیتا کہ شاید بدلہ نہ لینے سے کوئی مفید نتیجہ نکل آئے تو یہ اس کا صبر کہلائے گا۔مگر خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں یہ بدلہ لینے کی مقدرت ہی نہیں رکھتا وہاں اُس کا چُپ رہنا یا نہ رہنا برابر ہوگا۔اس لئے وہاں صبر کے یہی معنے ہوں گے کہ گھبرائے نہیں اور ہمت ہار کر بیٹھ نہ رہے لیکن بندوں کے مقابلہ میں اس کو بدلہ لینے کی مقدرت ہو