تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 380
کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے اِسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سوالات سے روک کر اُن کی فطرت اور ذہنیت کو بلند کرنے کی کوشش کی ہے۔بے شک بعض اوقات دوسرے سے بھی کوئی بات پوچھنی پڑتی ہے مگر زیادہ تر خود ہی غور کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔میں نے دیکھاہے قرآن کریم میں آدم ؑ کا قصہ آجائے تو لوگ بڑی کثرت سے سوال کرنے لگ جاتے ہیں حالانکہ اگر سوال کرنے کی بجائے وہ خود سوچیں تو اُن کی تمام مشکلات حل ہو جائیں۔اس جگہ صرف ایسے ہی سوالات سے روکا گیا ہے جو انسان کے ایمان کو تباہ کر دیتے ہیں اور اُس کے اندر کفر پیدا کر دیتے ہیں۔ورنہ عام سوالات سے جو تحقیق کی غرض سے کئے جائیں اسلام منع نہیں کرتا۔وَ مَنْ يَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيْلِ۔فرماتا ہے۔سوال کی اصل غرض تو علم کی زیادتی ہوتی ہے۔مگر جو شخص گستاخانہ سوالات کرتا رہتا ہے اور خدا اور اس کے رسول اور اس کے کلام کا ادب ملحوظ نہیں رکھتا۔وہ اس گستاخی کے نتیجہ میں اپنے پہلے ایمان کو بھی کھو بیٹھتا ہے اور ایمان میں ترقی کرنے کے بجائے کفر کی دہلیز تک پہنچ جاتا ہے۔اگر وہ دائرۂ ادب کے اندر رہتے ہوئے نیک نیتی سے سوال کرتا تو اس کی یہ حالت نہ ہوتی۔پس انسان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اپنے قلب کا جائزہ لیتا رہے اور لغو بحثوں اور لغو سوالات میں حصہ نہ لیاکرے۔حضرت مولوی عبداللہ صاحب غزنوی جنہوں نے ایک دفعہ رؤیا میں دیکھا تھا کہ قادیان سے ایک نُور نکلا ہے مگر میری اولاد اس سے محروم رہی ہے۔اُن کے پاس ایک دفعہ کوئی مولوی بحث کے لئے آگیا۔انہوں نے فرمایا کہ میں بحث کے لئے تیار ہوں بشرطیکہ مولوی صاحب کی نیت بخیر ہو۔معلوم ہوتا ہے وہ مولوی اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت رکھتا تھا اُس نے یہ فقرہ سُنتے ہی کہہ دیا کہ میں آپ سے بحث نہیں کرتا کیونکہ مناظرات میں عموماً نیت بخیر نہیں ہوتی بلکہ صرف اتنا ہی مقصد ہوتا ہے کہ دوسرا فریق ذلیل ہو جائے۔اور لوگوں میں واہ وا کا ایک شور مچ جائے۔غرض چونکہ بعض سوال حق پانے کے لئے نہیں ہوتے بلکہ اُن کی غرض محض بحث و مباحثہ لڑائی اور دوسرے کو شرمندہ کرنا ہوتی ہے۔اس لئے فرماتا ہے کہ مومنوں کو اس قسم کے سوالات سے بچنا چاہیے۔وَدَّ كَثِيْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اہل کتاب میں سےبہت سے لوگ بعد اس کے کہ حق ان پر خوب کھل چکا ہے اس حسد کی وجہ سے جو ان کی اپنی ہی اِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا١ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جانوں سے (پیدا ہوا )ہے چاہتے ہیں کہ تمہارے ایمان لے آنے کے بعد تمہیں پھر کافر بنا دیں۔پس تم اس وقت