تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 379

سلسلہ شروع ہو جاتا۔کہتے ہیں خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔میری عمر اس وقت بیس اکیس سال کی تھی اور طبیعت بھی تیز تھی حافظ صاحب کو سوالات کرتے دیکھا تو میں نے خیال کیا کہ میں کیوں پیچھے رہوں چنانچہ چوتھے دن میں نے بھی سوالات شروع کر دیئے۔ایک دن تو حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ چُپ رہے۔مگر دوسرے دن جب میں نے بعض سوالات کئے تو آپ نے فرمایا۔حافظ صاحب کے لئے سوالات کرنے جائز ہیں تمہارے لئے نہیں۔پھر آپ نے فرمایا۔دیکھو تم بڑی مدت سے مجھ سے ملنے والے ہو اور تم میری طبیعت سے اچھی طرح واقف ہو۔کیا تم کہہ سکتے ہو کہ میں بخیل ہوں یا کوئی علم میرے پاس ایسا ہے جسے میں چھپاکر رکھتا ہوں۔میں نے کبھی کوئی بات دوسروں سے چھپاکر نہیں رکھی۔جو کچھ آتا ہے وہ بتا دیا کرتا ہوں۔اب خواہ تم کتنے اعتراض کرو۔میں نے تو بہر حال وہی کچھ کہنا ہے جو میں جانتا ہوں۔اس سے زیادہ کچھ بتا نہیں سکتا۔اب کسی بات کے متعلق دو۲ ہی صورتیں ہو سکتی ہیں یا تو جو بات میں نے بتائی ہے وہ معقول ہے تم اُسے سمجھے نہیں۔یا پھر جو بات میں نے بتائی ہے وہ غلط ہے اور تمہارا اعتراض درست ہے۔اگر جو کچھ میں نے بتایا ہے وہ غلط ہے۔تو یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ میں بددیانتی سے تم کو دھوکا دینے کے لئے کوئی بات نہیں کہتا۔جو کچھ کہتا ہوں اُسے صحیح سمجھتے ہوئے ہی کہتا ہوں۔اس صورت میں خواہ تم کتنے اعتراض کرومیں تو وہی کہتا چلا جائوںگا جو میں نے ایک دفعہ کہا۔اور اگر میں نے جو کچھ کہا ہے وہ درست ہے تو اُس پر اعتراض کرنے کے یہ معنے ہیں کہ وہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آئی۔ایسی حالت میں اگر تم اعتراض کرو گے تو اس سے تمہاری طبیعت میں ضِد پیدا ہو گی۔فائدہ کچھ نہیں ہو گا۔اِس لئے میری نصیحت یہ ہے کہ تم سوالات نہ کیا کرو بلکہ خود سوچنے اور غور کرنے کی عادت ڈالو۔اگر کوئی بات تمہاری سمجھ میں آجائے تو اسے مان لیا کرو اور اگر سمجھ میں نہ آئے تو اللہ تعالیٰ سے دُعا کیا کرو کہ وہ خود تمہیں سمجھائے اور اپنے پاس سے علم عطا فرمائے۔اِس نصیحت کے بعد میں نے پھر حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ سے کبھی کوئی سوال نہیں کیا۔کچھ دن گزرے تو آپ نے حافظ صاحب کو بھی ڈانٹ دیا کہ وہ دورانِ سبق میں سوالات نہ کیا کریں۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے روزانہ بخاری کا آدھ آدھ پارہ پڑھنا شروع کر دیا۔بے شک اور علوم بھی ہم پڑھتے تھے لیکن بہر حال آدھ پارہ روزانہ تبھی ختم ہو سکتا ہے جب طالب علم اپنے مُنہ پر مہر لگا لے اور وہ فیصلہ کر لے کہ میں نے اُستاد سے کچھ نہیں پوچھنا۔جو کچھ وہ بتائے گا اُسے سُنتا چلا جائوں گا۔بہرحال حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کے اس روکنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے خود قرآن کریم پر غور کرنا شروع کر دیا اور اس کا فائدہ یہ ہوا کہ میں ابھی طالب علم ہی تھا کہ میں نے خود درس دینا شروع کر دیا۔گویا حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سوالات سے روک کر میرے ذہن کو اس طرف متوجہ کر دیاکہ مجھے خود بھی قرآن کریم پر غور