تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 375

بادشاہ کے تابع ہیں تو لازماً دونوں میں قانون بھی ایک ہی جاری ہونا چاہیےاور آسمانی قانون کا زمینی قانون پر اور زمینی قانون کا آسمانی قانون پر قیاس کرنا چاہیے۔اس آیت میں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے۔کہ جب تمہارے پاس کوئی نصّ موجود نہ ہو تو تم قانون شرعی کا جو کہ آسمانی قانون ہے قانون قدرت پر جو کہ زمینی قانون ہے قیاس کر لیا کرو۔کیونکہ جس طرح آسمانی بادشاہت اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے زمینی بادشاہت بھی اُسی کے قبضہ میں ہے اور یہ ممکن نہیں کہ ان دونوں میں کوئی تخالف ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس اصول کو ہمیشہ پیش فرمایا کرتے تھے۔کہ قرآن کریم خدا کا کلام ہے۔اور قانونِ قدرت اس کا فعل ہے اور یہ نا ممکن ہے کہ دونوں کا بنانے والا تو ایک ہو اور ان میں کوئی اصولی اختلاف پایا جاتا ہو (ملفوظات جلد ۱ صفحہ ۱۴۵)۔جس طرح زمین میں یہ قانون جاری ہے کہ جب تک کوئی قوم بادشاہت کی ذمہ واریوں کو ادا کرتی رہتی ہے اس کے پاس بادشاہت رہتی ہے اور جب وہ اُن ذمہ واریوں کو اد اکرنے سے قاصر جاتی ہے تو بادشاہت اُس سے چھین لی جاتی ہے۔اسی طرح جو مذہب دنیا کی ضروریات کو پورا نہیں کر تے ان کو منسوخ کر دیا جاتا ہے۔تمہارا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملنے پر اعتراض کرنا قانون قدرت کے خلاف ہے۔بہر حال کوئی نہ کوئی کلام اس وقت لوگوں کی ہدایت کے لئے آنا چاہیے تھا۔اگر یہ شخص نہ آتا تو کوئی اور آجاتا۔بہرحال جب پہلی کتابیں اپنی اصلاح کی قابلیت کو کھو بیٹھیں تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی جگہ کوئی اور کتاب بھیج دیتا۔حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی بعثت کے متعلق بھی اِسی قانون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ع میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا یعنی زمانہ چاہتا تھا کہ کوئی مصلح آئے۔پس اگر میں نہ آتا تو کوئی اَور آجاتا۔یہی مضمون اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ تمہاری یہ ناراضگی کہ محمدؐ رسول اللہ کیوںنبی بن گئے بلا وجہ ہے۔تم سماوی قانون کا قانون قدرت پر قیاس کرو۔قانونِ قدرت یہ ہے کہ جب کوئی چیز مفید نہیں رہتی تو وہ مٹادی جاتی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک دوسرے مقام پر فرماتا ہے۔کہ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ (الرعد:۱۸)یعنی ہمارایہ قانون ہے کہ جو چیز نفع رساں ہواسے زمین میں قائم رکھا جاتا ہے اور جو چیز نفع مند نہ رہےاُسے مٹا دیا جاتا ہے۔اور یہی قانون شریعت کے متعلق بھی ہے کہ جب وہ زمانہ کی غرض کو پورا نہیں کرتی تو اُسے منسوخ کر دیا جاتا ہے۔وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّ لَا نَصِيْرٍ پہلے ہر فرد کو مخاطب کیا تھا اور اسے عام رکھا تھا۔اب صرف مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تمہارے لئے سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی دوست اور مدد گار نہیں۔جب تم نے