تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 374
بغیر روشنی کے ہیں۔کیونکہ تیرا قانون جل گیا۔پس کوئی نہیں جانتا اُن چیزوں کو جو تو کرتا ہے اور ان کاموں کو جو شروع ہونے والے ہیں لیکن مجھ پر اگر تیری مہربانی ہے تو روح القدس کو مجھ میں بھیج اور میں لکھوں۔جو کچھ کہ دنیا میں ابتداء سے ہوا ہے اور جو کچھ تیرے قانون میں لکھا تھا تاکہ تیری راہ کو پاویں‘‘۔اِس پر اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف وحی نازل کی۔کہ تُو چالیس دن کی علیحدگی اختیار کر۔اور پانچ زودنویس اپنے ساتھ لے میں تیرے دل میں سمجھ کی شمع روشن کرونگا۔جو نہ بجھے گی تاوقتیکہ وہ چیزیں پوری نہ ہوـں جو تو لکھنا شروع کر ے گا۔چنانچہ حضرت عزرا اور پانچ زود نویس چالیس روز تک دوسروں سے الگ تھلک جا بیٹھے اور انہوں نے الہامی تائید سے ان کتب کو مکمل کیا۔( APOCRYPHA 11 - ESDRAS 14) غرض اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ تم تو اپنی تعلیموں کو بھی بھول گئے تھے۔مگر ہم نے تم پر یہ احسان کیا کہ تمہاری بھولی ہوئی تعلیم کو دوبارہ زندہ کر دیا۔لیکن بجائے اس کے کہ تم اس نعمت کی قدر کرتے تم نے اس کا انکار کر کے اپنی تعلیم سے بھی بے اعتنائی کا مظاہر ہ شروع کر دیا۔اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا کیا تجھے معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ (تعالیٰ) ہی کی ہے ؟ لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّ لَا نَصِيْرٍ۰۰۱۰۸ اور اللہ (تعالیٰ) کے سوا تمہارا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مدد گار۔تفسیر۔اس آیت میں اَلَمْ تَعْلَمْ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نہیں بلکہ ہر انسان مراد ہے۔چنانچہ اس آیت کا یہ اگلا ٹکڑا کہ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّ لَا نَصِيْرٍ اس حقیقت کو واضح کر رہا ہے کہ اَلَمْ تَعْلَمْ میں خطاب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات والا صفات سے نہیں ہے بلکہ فرداً فرداً ہر قاری سے یاہر سامع سے یاہر انسان سے ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ اے انسان ! یا اے قرآن کے پڑھنے والے یا اے قرآن کریم کے سننے والے کیا تو اِس بات کو نہیں جانتا کہ آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہت اللہ ہی کے قبضے میں ہے یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ دنیوی بادشاہتیں بُرے لوگوں سے لے کر قابل ہاتھوں میں دے دیتا ہے۔اسی طرح روحانی بادشاہت بھی وہ بعض دفعہ ایک قوم سے لے کر دوسری قوم کو دے دیتا ہے۔اور جب آسما ن اور زمین دونوں ایک ہی