تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 367

ہیں۔لیکن غیر حکم میں تو نسخ نہیں ہوتا۔پھر وہ کیوں منسوخ ہو گیا؟ غرض یہ باتیں اپنی ذات میں اتنی مضحکہ خیز ہیں کہ کوئی انسان انہیں درست تسلیم نہیں کر سکتا اور پھر منسوخ شدہ آیات کے جو الفاظ بتاتے ہیں وہ بھی عجیب و غریب ہیں مثلاً اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ اِذَا زَنَیَافَارْجُمُوْ ھُمَا میں شیخ کے تین معنے ہو سکتے ہیں۔اول عالم یا قوم کارئیس اور سردار۔دوم شادی شدہ مرد کیونکہ عربی زبان میں شَیْخُ الْمَرْأَۃِ عورت کے خاوند کوکہتے ہیں۔سوم بوڑھا اور ضعیف انسان(اقرب)۔ان معنوں کے لحاظ سے اس فقرہ کا یہ مفہوم بنتا ہے کہ اگر کوئی بڑا عالم یا معزز شخص زنا کرے تو اُسے رجم کر دو۔چھوٹا کرے تو نہ کرو۔دوسرے معنے یہ بنتے ہیں کہ اگر میاں بیوی آپس میں زنا کریں تو ان کو رجم کر دو۔کیونکہ شَیْخ اور شَیْخۃ کے معنے اس جگہ میاں بیوی کے بھی لئے جا سکتے ہیں۔اِس صورت میں یہ ماننا پڑے گا کہ میاں بیوی بھی آپس میں زنا کیا کرتے ہیں۔تیسرے معنے یہ بنتے ہیں کہ بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت جو ناقابل جماع ہوتے ہیں زنا کریں تو اُن کو رجم کردو۔غرض تینوں جگہ ناممکنات تسلیم کرنے پڑتے ہیں۔یعنی ناقابل جماع مرد اور عورت آپس میں زنا کریں۔یا میاں بیوی زنا کریںتو اُن کو رجم کر دو۔یا بڑے آدمی زنا کریں تو ان کو رجم کر دو اور اگر چھوٹے کریں تو نہ کرو۔غرض جس پہلو سے بھی دیکھا جائے اِسے کوئی شخص قرآنی آیت قرار دینے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔پھر سوال یہ ہے کہ یہاں نسخ آیات کے ذکر کا موقع ہی کیا تھا۔یہاں تو یہودیوں کی کتاب کا ذکر ہو رہا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم اپنی ہی کتاب مانیں گے۔پس اگر یہاں نسخ کا ہی ذکر تسلیم کیا جائے تو پھر اس آیت کے یہ معنے ہوںگے کہ یہاں صُحفِ ماضیہ کے نسخ کا ذکر ہے۔یعنی تورات وغیرہ کا۔مگر مفسّرین کہتے ہیں یہاں قرآن کریم کے نسخ کا ذکر ہے۔حالانکہ اِس بات کا پہلے مضمون کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں۔پہلے یہ مضمون ہے کہ یہود کہتے ہیں ہم خدا تعالیٰ کے خاص فضلوں کے وارث ہیں ہم اپنے نبیوں کے کلام کو مانتے ہیں۔غیر کے کلام کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔اس پر خدا تعالیٰ نے اُن کے سامنے یہ کیا دلیل پیش کی کہ میرا قرآن بھی منسوخ ہو جاتا ہے اور بُھلا بھی دیا جاتا ہے اس لئے تم اسے مان لو۔حقیقت یہ ہے کہ مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا میں قرآن کریم کی آیات کے منسوخ ہونے کا کہیں ذکر نہیں۔بلکہ جیسا کہ ترتیب مضمون سے ظاہر ہے پچھلی آیات میں یہود کے متعلق یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ تم پر کسی قسم کی خیر نازل ہو۔اور سب سے بڑی خیر الہام الہٰی ہے۔پس اس آیت میں کوئی ایسا ہی ذکر ہو سکتا ہے۔جو پچھلی آیات کے مطابق ہو۔کوئی مضمون بلا تعلق نکالنا کسی طرح جائز نہیں ہو سکتا اور وہ مضمون