تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 366

تھیں۔پس اگر بعض آیتیں یکدم ذہنوں سے محو ہو گئی تھیں تو مسلمانوں میں شور مچ جانا چاہیے تھا۔اور چاہیے تھا کہ اس قسم کی بیسیوں روایات ہوتیں۔اور بڑے بڑے جلیل القدر صحابہؓ مثلاً حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ وغیرہ کہتے کہ فلاں سورۃ ہمیں یاد تھی مگر پھر اچانک بھول گئی۔اِسی طرح اگر لوگوں کو کوئی آیت بھول جاتی تو وہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ وغیرہ سے پوچھتے۔وہ کہتے کہ ہمیں بھی بھول گئی ہے۔پھر وہ حضرت عثمانؓ سے پوچھتے۔وہ کہتے کہ مجھے بھی بُھول گئی ہے۔پھر وہ حضرت علیؓ سے پوچھتے۔وہ کہتے کہ مجھے بھی بھول گئی ہے۔پھر وہ سارے مل کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس آتے اور آپ سے پوچھتے تو آپؐ فرماتے کہ اسے تو فرشتے اٹھا کر لے گئے ہیں اور مجھے بھی یاد نہیں رہی اس طرح تو ایک شور پڑ جانا چاہیے تھا۔مگر کہا یہ جاتا ہے کہ صرف دو آدمیوں کو جن کے باپ کا نام بھی معلوم نہیں ایک سورۃ بھول گئی تھی۔اور پھر یہ عجیب لطیفہ ہے کہ وہ رات کو اکٹھے لیٹے اور پھر وہ اکٹھے ہی نماز کے لئے اُٹھے اور پھر وہ آیتیں اکٹھی ہی اُن کو بھول گئیں اور صبح کو پھر وہ اکٹھے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پُوچھنے کے لئے گئے۔اور پھر یہ بھول اتنی بڑھی کہ اس روایت کے راویوں کے نام بھی لوگ بھول گئے۔اور انہیں یاد نہ رہا کہ یہ دو کون آدمی تھے (فتح البیان زیر آیت ھذا)۔بھول کا یہ لطیفہ کوئی احمق ہی درست تسلیم کر سکتا ہے عقلمند انسان تو اسے بالکل مان نہیں سکتا۔جن آیات کے الفاظ منسوخ اور معنے قائم قرار دیئے جاتے ہیں۔اُن کے متعلق قابل غور بات یہ ہے کہ جب حکم قائم تھا تو اُن کے الفاظ کو کیوں باطل کیا گیا؟ یہ بات بھی ایسی ہے۔جسے کوئی عقل تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتی۔وہ لوگ اس کے ثبوت میں کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں پہلے رجم کا حکم تھا مگر اب نہیں۔لیکن رجم کا حکم منسوخ نہیں ہوا۔اسی طرح قرآن کریم میں پہلے یہ آیت ہوا کرتی تھی کہ اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ اِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوْ ھُمَا مگر اب یہ حکم تو قائم ہے مگر الفاظ نکال دیئے گئے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ الفاظ کیوں نکال دیئے گئے ہیں اور اس کا کیا فائدہ ہوا؟ حکم تو موجود رہا پھر الفاظ کیوں غائب کر دیئے گئے؟ اِس سے بڑھ کر یہ لطیفہ ہے کہ ایک اور آیت میں یہ ذکر آتا ہے کہ انسان بڑا حریص ہے۔اس کے متعلق بھی وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ منسوخ ہو گئی ہے۔حالانکہ وہ ایک واقعہ ہے نہ کہ حکم۔اور واقعہ کے متعلق سب مفسرین متفق ہیں کہ وہ منسوخ نہیں ہوا کرتا۔چنانچہ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے اَمَّا الْاَخْبَارُ فَـلَایَکُوْنُ فِیْھَا نَا سِخٌ وَلَا مَنْسُوْخٌ یعنی خبروں اور واقعات میں کوئی نسخ نہیں ہوتا۔(تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھذا) پس واقعہ والی آیت کو منسوخ کرنے کے کیا معنے؟ اس کے تو یہ معنے بنتے ہیں کہ واقعہ کے متعلق خدا تعالیٰ کو غلطی لگ گئی تھی۔حکم کے نسخ کے تو کچھ معنی بھی ہو سکتے