تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 328

(۴) یا اس میں خفیہ سازش ا ورسوسائٹیوں کا ذکر نہ ہو گا۔اب ہم دیکھتے ہیںکہ وہ کونسی بات ہے جو اِن چاروں اصول پر حاوی ہو۔اور پھرتین زمانوں پر حاوی ہو اور انہیں زمانوں پر حاوی ہو جن کا اس جگہ ذکر ہے۔ان چاروں اصولوں میں سے ایک اصل ہمیں واضح طور پر نظر آتا ہے جس پر ہم اپنی تحقیق کی بنیاد رکھ سکتے ہیں اور وہ یہ کہ وہ معنے ایسی خفیہ سازش اور سوسائٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔جو مرد اور عورت کے درمیان تفریق پیدا کر دیتی تھی۔یعنی وہاں یہ شرط پائی جاتی تھی کہ اس میں صرف مر د ہی داخل ہو سکتے ہیں عورتیں نہیں۔اس شرط سے ہمارے لئے تحقیقات میں بہت سی سہولت پیدا ہو جاتی ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا کوئی ایسی سوسائٹی ہے جو مرد اور عورت میں جدائی ڈالتی ہو اور آیا اس کا تعلق ان زمانوں کے ساتھ ہے ؟ سو غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں صرف ایک ہی سوسائٹی ہے۔جس میں مر د اور عورت میں تفریق پیدا کی جاتی ہے۔اور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کے زمانہ تک نظر آتی ہے۔بلکہ آج سے پندرہ بیس سال پہلے تک بھی چلی آئی ہے۔اور وہ فریؔ میسنز کی سوسائٹی ہے۔جو پنجاب میں جادو کی سوسائٹی کہلاتی ہے۔یہ ایک خفیہ سوسائٹی ہے۔جس کا اصول یہ ہے کہ عورتیں اس کی ممبر نہیں ہو سکتیں صرف مرد ہی ممبر ہوسکتے ہیں۔اس سے ہم اصل مضمون کے قریب ہو جاتے ہیں اور ہم اس پر اپنی تحقیق کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔کیونکہ یہ سوسائٹی مخفی بھی ہے اور پھر مردوں ہی کو اپنے اندر داخل کرتی ہے۔یہ امر یا د رکھنا چاہیے کہ موجودہ فری میسن سوسائٹی کا ان واقعات سے کوئی تعلق نہیں اِس میں صرف اُس فری میسن سوسائٹی کا ذکر ہے جس کا تعلق تین زمانوں سے ثابت ہو اور تاریخی واقعات سے بھی اُس کی تصدیق ہو۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ کسی فری میسن سوسائٹی کا آج تک تسلسل قائم نہیں رہا۔کوئی چار سو سال تک رہی کوئی پانچ سو سال تک۔کوئی بارھویں صدی میں مٹ گئی کوئی پندرھویں صدی میں۔کوئی اٹھارویں صدی میں قائم ہوئی اور پھر اسی صدی میںمٹ گئی اور کوئی انیسویں صدی میں قائم ہوئی۔پس ہم کسی ایک سوسائٹی کے اصول پر قطعی بنیاد نہیں رکھ سکتے۔کیونکہ بہت سی سوسائٹیاں قائم ہوئیں اور انھوں نے پہلوں کی بعض باتیں لے لیں اور بعض ترک کر دیں۔مگر ایک اصل مَیں نے یہ بھی بتایا ہےکہ ایسی خفیہ سوسائٹی کا یہود سے تعلق ہونا چاہیے۔کیونکہ ان تینوں باتوں کا یہود سے ہی تعلق ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ آیا فری میسن سوسائٹی کایہود سے کوئی تعلق ہے؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ جیوش انسا ئیکلوپیڈیا جلد۵ جس میں یہودیوںکے متعلق فری میسنری Freemasenary کے ماتحت اس بات کا ازالہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ فری میسنوں کا یہود سے کوئی تعلق ہے۔اسی سے اس بات