تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 327
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں تین وقت کے اعمال کا ذکر ہے۔وہ عمل جو تینوں دفعہ ہواکوئی خفیہ بات یا سازش ہے۔یہ عمل مندرجہ ذیل تین مواقع پر ہوا ہے۔اوّل۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے وقت میں دوم۔بابل میں سوم۔رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے وقت اس کا وقوع وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّيٰطِيْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَيْمٰنَ کے الفاظ سے ثابت ہے۔اور بابل کے موقع کے لئے مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْ تَ کے الفاظ شاہد ہیں۔اور رسول کریم صلی اﷲعلیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں اس کا صدور وَ يَتَعَلَّمُوْنَ مَا يَضُرُّهُمْ وَ لَا يَنْفَعُهُمْسے ثابت ہے۔بلکہ دوسری آیت وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْاسے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔غرض آیت کے یہ تین حصے اس عمل کے تین دفعہ صادر ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔چوتھی بات اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتی ہے کہ تینوں دفعہ اس عمل کا صدور یہود سے ہوا تھا۔یہ چار باتیں ہمارے معنوں کو محدود کر دیتی ہیں۔پس وہی معنے صحیح ہوں گے جو مذکورہ بالا چار باتیں اپنے اندر رکھتے ہوں یعنی وہی معنیٰ ان آیات کے مطابق ہو سکتے ہیں جو (۱) ایسے عمل پر دلالت کرتے ہوںجو تین دفعہ صادر ہوا ہو۔(۲) جو کسی ایسے عمل پر دلالت کرتے ہوںجو خفیہ سازش یا خفیہ سوسائٹی کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں۔(۳) جو ثابت کرتے ہوں کہ اُن کا ایک وقوع حضرت سلیمان علیہ السلام کے وقت۔دوسرا بابل میں اور تیسرا رسول کریم صلی اﷲعلیہ وآلہٖ وسلم کے وقت ہوا۔(۴) جو معنی یہ بتائیں کہ تینوں واقعات یہود کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔پس جو معنے اس کے خلاف ہوں گے آیت ان کو ردّ کردے گی۔اسی طرح جو معنے مفسّرین نے بیان کئے ہیں لازماََ اُن میں بھی ان چاروں پہلو ؤں میں سے کوئی پہلو ضرور مفقود ہو گا یعنی (۱) یا تو یہود کا ان سے تعلق نہ ہوگا۔(۲) یا وہ تین دفعہ نہ ہوا ہو گا۔(۳) یا ان تینوں موقعوں پر نہ ہوا ہو گا۔