تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 26
میں تیری صورت پر ہو کے جاگوں گا تو مَیں سیر ہوؤں گا۔‘‘ (زبور باب ۱۷ آیت ۱۴،۱۵) ان آیات سے ثابت ہے کہ حضرت داؤد علیہ ا لسلام کے نزدیک بعض لوگ اسی زندگی پر تکیہ کرتے ہیں لیکن مومن بعد از موت زندگی پر دھیان رکھتا ہے کیونکہ وہاں اُسے اﷲ تعالیٰ کی کامل طور پر زیارت ہو گی اور اسکی رُوح اسی دنیا میں خدا کی صورت پر ہو گی یعنی کامل الصفات ہو گی۔پھر حضرت داؤد خدا تعالیٰ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں ’’ اُس نے ( یعنی داؤد نے ) تجھ سے زندگی چاہی اور تو نے اس کو عمر کی درازی ابد تک بخشی۔‘‘ (زبورباب ۲۱ آیت ۴) ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام اور ان کے بعد کے نبیوں کی تعلیمات سے بعد از موت زندگی کا ثبوت یقینی طور پر ملتا ہے اور جب ہم قرآن کریم کی شہادت کو ملا کر دیکھیں جو دشمن کے نزدیک بھی کم سے کم زمانہ نبوی صلی اﷲ علیہ وسلّم کے متعلق ایک معتبر تاریخی شہادت کی حیثیت ضرور رکھتی ہے تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ اس بارہ میں زمانہ حال کے محققین کا یہ خیال کہ حضرت مسیحؑ سے پہلے کے اسرائیلی نبیوں کی تعلیم میں بعد از موت زندگی کا ثبوت نہیں ملتا۔ایک بودا، کمزور اور بے دلیل خیال ہے اور قلّت تدبّرکا نتیجہ ہے۔حق یہ ہے کہ بعد از موت زندگی کی تعلیم یہود میں پہلے سے موجود تھی۔اور وہ اپنے اعمال سے ڈرتے ہوئے اس زندگی کے عذاب کا خوف دل سے مٹانے کے لئے کچھ حیلے تراشتے تھے جن میں سے ایک یہ تھا کہ بوجہ نبیوں کی اولاد ہونے کے ان کی شفاعت سے ہم عذاب اُخروی سے یا تو کلّی طور پر بچ جائیں گے یا بہت محدود عذاب ہمیں ملے گا۔اﷲ تعالیٰ اس کی نفی فرماتا ہے۔اور فرماتا ہے کہ شفاعت گناہ پر دلیر کرنے کے لئے نہیں ہوتی۔ایسی کوئی رعایت تم کو نہ دی جائے گی۔پس اپنے اعمال کی اصلاح کرو اور خود ساختہ خیالات سے فریب کھا کر اپنی عاقبت خراب نہ کرو۔یہود کو شفاعت کے بارہ میں غالباً اس امر سے بھی دھوکا لگا کہ اس دنیا میں پہلے بعض الٰہی عذابوں کا اُن کے متعلق فیصلہ ہوا ، پھر نبیوں کی دعا سے وہ ٹل گئے۔انہوں نے سمجھا کہ اسی طرح آخرت میں بھی ہو گا۔حالانکہ اس دنیا کو اگلے جہان سے کوئی نسبت نہیں۔اس دنیا میں عذاب کے ٹلانے سے انسان کو پھر توبہ اور نیکی کا موقع مل سکتا ہے مگر دوسری زندگی تو آخری فیصلہ کا مقام ہے۔وہاں اس قسم کی بخشش کے معنے تو یہ بنتے ہیں کہ دنیوی زندگی کو بالکل عبث قرار دےدیا جائے۔عیسائیت اورمسئلہ شفاعت شفاعت کا خیال مسیحیوں میں بھی پایا جاتا ہے انجیل میں لکھا ہے’’ اے میرے بچو !میں یہ باتیں تمہیں لکھتا ہوں تاکہ تم گناہ نہ کرو۔اور اگر کوئی گناہ کرے تو یسوع مسیح جو صادق ہے باپ کے پاس