تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 22
صرف اتنا کہنا کافی سمجھتا ہوں کہ نہ تو مسیح کا اپنی مرضی سے صلیب پر لٹکنا انجیل سے ثابت ہے نہ اُن کا صلیب پر مرنا۔انجیل سے اس بات کا ثبوت کہ مسیح نہ صلیب پر اپنی مرضی سے لٹکے اور نہ ہی صلیب پر انہوں نے وفات پائی انجیل میں صاف لکھا ہے کہ حضرت مسیح ساری رات اﷲتعالیٰ سے دعا کرتے رہے کہ وہ اُن کو صلیب سے بچا لے۔چنانچہ لکھا ہے ’’ کچھ آگے بڑھ کے ( مسیح علیہ ا لسلام ) مُنہ کے بل گرا۔اور دعا مانگتے ہوئے کہا کہ اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے گزر جائے۔تو بھی میری خواہش نہیں بلکہ تیری خواہش کے مطابق ہو۔‘‘ ( متی باب۲۶ آیت ۳۹)۔کیا عقل تسلیم کر سکتی ہے کہ جو شخص آسمان سے گنہ گاروں کے گناہ اُٹھانے کے لئے اپنی مرضی سے آیا۔وہ اس طرح رو رو کر اور سجدہ میں گر کر اس سے بچنے کی کوشش کرتا رہا۔مسیحی کہتے ہیں کہ مسیحؑ نے ساتھ یہ بھی تو کہا کہ خدا کی مرضی ہو۔بیشک ایسا ہی لکھا ہے مگر اس سے یہ تو معلوم ہوا کہ مسیح کی اپنی مرضی لوگوں کے گناہ کا کفاّرہ بننے کی نہ تھی پھر وہ کفّارہ ہو کس طرح گیا۔کیا خدا تعالیٰ نے ظلماًایک آکاری شخص کے کندھوں پر لوگوں کا بوجھ ڈال دیا۔مسیحؑ کی شدتِ مخالفت تو ہم اس حد تک دیکھتے ہیں کہ جب اُسے صلیب پر لٹکایا گیا تو بقول اناجیل اُس نے کہا’’ ایلی۔ایلی۔لما سبقتانی۔‘‘ (متی باب ۲۷ آیت ۴۶) یعنی اے میرے خدا! اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔اس حوالہ سے تو اس تشریح کی بھی تردید ہو جاتی ہے جو مسیحی پہلے حوالہ کی کرتے ہیں یعنی مسیح علیہ ا لسلام نے خدا کی مرضی کو مقدّم کر لیا تھا۔کیونکہ انجیل کہتی ہے کہ جب خدا کی مرضی ظاہر ہو ہی گئی اور مسیحؑ صلیب پر لٹک گئے۔تو انہوں نے بجائے رضامندی ظاہر کرنے کے خدا تعالیٰ سے نعوذ باﷲ شکوہ کرنا شروع کر دیا کہ تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ہے۔خلاصہ یہ کہ حضرت مسیح کسی صورت میں بھی صلیب پر لٹکایا جانا نہیں چاہتے تھے۔پس یہ کہنا کہ وہ انسانوں کے گناہ اُٹھانے کے لئے اس دنیا میں آئے تھے۔بالکل باطل ہے۔اگر وہ اس غرض کے لئے دنیا میں آئے ہوتے تو کبھی اس واحد ذریعہ سے جو مسیحیوں کے خیال میں لوگوں کو گناہ سے بچانے کا تھا۔اپنے آپ کو بچانے کی کوشش نہ کرتے۔اب رہا دوسرا سوال کہ کیا مسیح علیہ ا لسلام واقعہ میں صلیب پر فوت ہوئے؟سو اس بارہ میں اختصاراً خود حضرت مسیح علیہ ا لسلام کی شہادت یہ ہے کہ ایک دفعہ ان کے پاس فقیہوں اور فریسیوں کا ایک وفد آیا اور درخواست کی کہ انہیں ایک نشان دکھایا جائے۔اس پر حضرت مسیح نے فرمایا کہ ’’ اس زمانہ کے بد اور حرامکار لوگ نشان ڈھونڈتے ہیں پر یونس نبی کے نشان کے سوا کوئی نشان انہیں دکھایا نہ جائے گا۔کیونکہ جیسا یونس تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا۔ویسا ہی ابنِ آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔‘‘ (متی باب ۱۲ آیت ۳۹،۴۰) یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں