تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 257
سے مدد کرتے ہو۔حالانکہ شرعاً تمہارے لئے ان کے خلاف ایسا قدم اٹھانا جائز ہی نہیں۔اور اگر وہ قیدی کی صورت میں تمہارے پاس لائے جاتے ہیں تو تم فدیہ دے کر ان کو چھڑا لیتے ہو۔حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ ان کا گھروں سے نکالنا بھی تم پر حرام کیا گیا تھا۔یعنی پہلا کام جس کے نتیجہ میں تم فدیہ دے کرانہیں چھڑاتے ہو وہ بھی تم پرحرام تھا مگر تم نے اس کا ارتکاب کر لیا۔اس کے معنے یہ ہیں کہ تم کتاب کے ایک حصہ پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے کا انکار کرتے ہو۔اللہ تعالیٰ نے اس جگہ یہود کے ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کا وہ مدینہ کے مشرک قبائل کے ساتھ مل کر ارتکاب کیا کرتے تھے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے قبل مشرکوں کی دو پارٹیاں تھیں۔جن میں سے ایک کا نام اَوس اوردوسری کا نام خزرج تھا۔بعثت سے کچھ عرصہ پہلے سے ان کی آپس میں جنگ چلی آتی تھی۔یہودی قبائل جو مدینہ میں اس خیال سے آکر آباد ہو گئے تھے کہ جب وہ موعود نبی جو اس ملک میں آنے والا ہے آئے گا تو ہم اُس پر ایمان لائیں گے۔وہ تین تھے۔بنو قریظہ،بنو قینقاع اور بنو نضیر۔اُس زمانہ کے دستور کے مطابق جَتھہ بندی ہی امن کا ذریعہ تھی۔اس کے بغیر لوگ اطمینان سے نہیں رہ سکتے تھے چونکہ اَوس اور خزرج کی آپس میں جنگ تھی اس لئے انہوں نے یہودی قبائل سے سمجھوتہ شروع کر دیا۔بنو قینقاع اور بنو قریظہ اَوس کے حلیف ہو گئے اور بنو نضیر خزرج کے ساتھ مل گئے۔جب اوس اور خزرج میں جنگ ہوتی تو یہودی بھی اپنے معاہدہ کے مطابق اُن کے ساتھ جنگ میں شامل ہوتے اور اُن کے ساتھ ہو کر لڑتے اور ان کی مدد کرتے۔اس طرح ہر قبیلہ اپنے عمل سے دوسرے یہودی قبیلہ کو جنگ کے لئے اُس کے گھر سے نکالتا۔لیکن جنگ کے بعد ان میں سے جو پارٹی بھی جیتتی وہ جہاں دوسرے قبیلہ کے آدمیوں کو قید کرتی وہاں یہودیوں کو بھی قید کر لیتی۔اس پر اُس پارٹی کے یہودی جو ہار جاتی تھی اُن سے جا کر کہتے کہ ہمارے مذہب میں یہودی کو غلام بنانا ناجائز ہے اس لئے تم فدیہ لے کر ان کو چھوڑ دو۔چنانچہ وہ آپس میں چندہ کر کے ایک بڑی رقم بطو ر فدیہ اُن کو دیدیتے اور یہود کو مشرکین کی غلامی سے آزاد کروالیتے اور کہتے کہ یہودی کا کسی غیر یہودی کے پاس غلام رہنا درست نہیں۔(السیرۃ النبی لابن ہشام )اللہ تعالیٰ یہود کے اس فعل کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم کو دو باتوں سے منع کیا گیا تھا۔آپس میں جنگ کرنے سے بھی اور اپنے بھائیوں کو غلام بنانے سے بھی۔مگر تم جنگ بھی کرتے ہو اور اُس کے نتیجہ میں اپنی قوم کے افراد کو غیر یہودیوں کا غلام بنانے یا بنوانے کی کوشش بھی کرتے ہو۔مگر غلام بنواتے وقت توتمہیں یہ خیال نہیںآتا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔اور جب وہ غلام بن جاتے ہیں تو تم بڑے نیک بن کر انہیں فدیہ دے کر چھڑالیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہمارے مذہب میں اللہ تعالیٰ نے یہود