تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 253
تَشْهَدُوْنَ۰۰۸۵ (اس عہد کے متعلق ہمیشہ )گواہی دیتے رہے ہو۔تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہود کے دو اور تمدنی نقائص بیان کرتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ان میں خاص طور پر پائے جاتے تھے۔اورجن کے وہ اکثر مرتکب ہو ا کرتے تھے۔فرماتا ہے کہ تم اس وقت کو بھی یاد کرو۔جب ہم نے تم سے یہ عہد لیا تھا کہ تم اپنے خون نہ بہائو گئے اور اپنے آپ کو اپنے گھر وں سے نہ نکالو گے۔اپنے خون بہانے سے اس جگہ اپنے ہم قوموں کا قتل مراد ہے۔اور یہ الفاظ اس لئے اختیار کئے گئے ہیں کہ اپنی قوم کو قتل کرنا درحقیقت اپنا ہی قتل کرنا ہوتا ہے۔کیونکہ بعض افرادکی ہلاکت یا ان کا قتل تمام قوم پر بحیثیت مجموعی اثر انداز ہوتا ہے۔اِسی طرح اپنے آپ کو گھروں سے نکال دینے سے بھی اپنے آپ کو گھروں سے نکالنا مراد نہیں۔جیسا کہ خود اگلی آیت سے ظاہر ہوتا ہے بلکہ اس سے مراد بھی اپنی قوم کا نکالنا ہے۔ورنہ کوئی شخص اپنے آپ کو اپنے گھر سے نکالا نہیں کرتا۔اس جگہ بھی پچھلی بیان کردہ حکمت کے ماتحت قوم کے بعض افراد کے نکالنے کا ذکر کرنے کی بجائے اپنا نکالنا بیان کیا گیا ہے تاکہ ان کو اپنی حماقت کا احساس ہو۔مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ ایک دوسرے کو قتل کرنا اور اپنی قوم کے افراد کو اپنے گھروں سے نکالنا تمہارے لئے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔مگر تم نے اس حکم کو بھی توڑا جیسا کہ اگلی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔اِس آیت کے شروع میں الفاظ وَ اِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ رکھے گئے ہیں۔اور اس سے پہلی آیت کو وَ اِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ سے شروع کیا گیا ہے۔حالانکہ دونوں عہد بنی اسرائیل سے ہی لئے گئے تھے۔پھر ان دو آیتوں میں مختلف الفاظ کیوں رکھے گئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کا یہ ایک عجیب کمال ہے جو اس کے بے نظیرہونے کے ہزاروں دلائل میں سے ایک دلیل ہے۔کہ وہ الفاظ کی خفیف تبدیلیوں سے مختلف مضامین ادا کر جاتاہے اور فقروں کا کام لفظوں سے لے لیتا ہے۔اس جگہ بھی بنی اسرائیل کی جگہ کُمْ رکھ کر ایک خاص امر کی طرف متوجہ کیا ہے اور وہ یہ کہ اول الذکر بدیاں تو وہ تھیں جو اس وقت تمام بنی اسرائیل میں پھیلی ہوئی تھیں۔اور مؤخر الذکر بدیاں وہ ہیں جو خاص طور پر یہود کے اُن قبائل میں رائج تھیں جو مدینہ اور اس کے نواح میں رہتے تھے۔پس ایک جگہ بنی اسرائیل کا لفظ رکھ کر اس کی عمومیت کی طرف اشارہ کیا تو دوسری طرف کُـمْ فرما کر عرب کے یہودقبائل کو