تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 227
لے لیتے ہیں جو خدا کی سُنّت اور اُس کے منشاء کے خلاف ہوتے ہیں اور اُن کو چھوڑ دیتے ہیں جو خدا کی سُنّت اور اُس کے منشاء کے مطابق ہوتے ہیں۔مسلمانوں کے لئے یہ مضمون بہت ہی عبرت کا موجب ہے۔آج مسلمانوں کی بھی یہی حالت ہے۔اکثر مسلمان تو قرآن کریم کے معنے جانتے ہی نہیں اور جو جانتے ہیں وہ صرف محدود علم رکھتے ہیں۔قرآنی الفاظ کے اندر جو متعدد مضامین پائے جاتے ہیں اُن کی طرف نہ توجہ کرتے ہیں نہ توجہ کرنا چاہتے ہیں بلکہ جو توجہ کرے اُسے متأوّل اور کافر قرار دیتے ہیں جس کی وجہ سے قرآن کے خزانے بند ہو گئے۔اُس کا چلتا ہوا پانی اِن لوگوں کے لئے کھڑا ہو کر بدبودار ہو گیا۔مسلمانوں نے اتنا نہ سوچا کہ جس بات کو قرآن کریم نے یہودیوں کے لئے عیب کے طور پر پیش کیا ہے وہ مسلمانوں کے لئے حُسن کیونکر ہو گیا۔ایک معنے اُمْنِیَّۃٌ کے تمنّاکے کئے گئے ہیں اِن معنوں کے رُو سے اُمِّیْ کے وہی عام معنے لئے جائیں گے جو عام عربی زبان میں رائج ہیں یعنی بالکل اَنْ پڑھ جو نہ لکھ سکے اور نہ پڑھ سکے۔اور آیت کا مفہوم یہ ہو گا کہ یہودیوں میں سے بعض اَنْ پڑھ ہیں جو اپنی کتاب پڑھ بھی نہیں سکتے یا لفظًا تو تلاوت کر سکتے ہیں لیکن اُس کے معنے نہیں جانتے۔اُن کا علم کتاب کے متعلق صرف چند آرزؤوں تک محدود ہے یعنی وہ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ ہم نے صحف ِ بنی اسرائیل کو اگر بغیر معنے جاننے کے ہی پڑھ لیا یا لوگوں سے سُن لیا تو بس یہ ہماری نجات کے لئے کافی ہے۔گویا خدا کی کتاب اُن کے دل میں صرف ایک تمنّا پیدا کرتی ہے کوئی علم اور نور نہیں بخشتی۔یہ حالت بھی آج مسلمانوں میں پیدا ہے اور وہ اس سے ہوشیار نہیں ہوتے۔ہوشیار ہونے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔کروڑوں مسلمان ہیں جو قرآن کریم کی لفظی تلاوت بھی نہیں کر سکتے اور کروڑوں ہیں جو اُس کے لفظ تو پڑھ سکتے ہیں مگر اُن کے معنے نہیں جانتے اور اِن دونوں گروہوں کے دلوں میں قرآن کریم کے پڑھنے اور اُس کے معانی کے جاننے کی خواہش بھی پیدا نہیں ہوتی بغیر معنے جاننے کے جب وہ قرآن کریم پڑھ لیتے ہیں یا یہ بھی نہیں کر سکتے اور کبھی کبھار کسی سے قرآن کریم کی کچھ تلاوت سُن لیتے ہیں تو وہ مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ان کو نجات حاصل ہو گئی۔کیونکہ اُنہوں نے قرآن کریم سُن لیا ہے یا پڑھ لیا ہے حالانکہ نہ اُنہوں نے قرآن پڑھانہ سُنا بلکہ آوازوں کے بعض اُتار چڑھاؤ سنے یا سیاہی کی بعض لکیروں کو دیکھا قرآن کریم تو اُس مضمون کا نام ہے جس پر اُس کے حروف و الفاظ دلالت کرتے ہیں۔اگر کسی شخص نے اس مضمون کو نہ پڑھا اور یہ جانتے ہوئے نہ پڑھا کہ قرآن کریم کے اِن الفاظ کا یہی مفہوم ہے اُس نے قرآن کریم ہرگز نہیں پڑھا۔اور جس نے اُس کتاب کو ہی نہ جانا جو خدا تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت کے لئے بھجوائی تھی وہ کیونکر یہ