تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 226
ایک علم کا اظہار کر دیا ہے اس لئے خدا کی کتاب میں سے اِس علم کو خارج کر دینا چاہیے۔اس سے تو سچائی کا خون ہو گا اور خدا کی کتاب ایسی حرکات سے بالا ہوتی ہے۔وَ مِنْهُمْ اُمِّيُّوْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِيَّ وَ اِنْ هُمْ اور ان میں سے بعض اَن پڑھ ہیں جو چند جھوٹی باتوں کے سوا اپنی کتاب کا کچھ بھی علم نہیں رکھتے اور وہ صرف اِلَّا يَظُنُّوْنَ۰۰۷۹فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ يَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ تُک بندیاں کرتے رہتے ہیں۔پس جو لوگ اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں (اور) پھر اس کے ذریعہ سے (کچھ) بِاَيْدِيْهِمْ١ۗ ثُمَّ يَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِيَشْتَرُوْا بِهٖ تھوڑی (سی) قیمت حاصل کرنے کے لئے کہہ دیتے ہیں کہ یہ (کتاب ) اللہ کی طرف سے ہے ان کے لئے ثَمَنًا قَلِيْلًا١ؕ فَوَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَيْدِيْهِمْ وَ وَيْلٌ (ایک سخت)عذاب( مقدر )ہے۔پھر( ہم کہتے ہیں کہ) ان کے لئے ان کے ہاتھوں کے لکھے ہوئے کے سبب لَّهُمْ مِّمَّا يَكْسِبُوْنَ۰۰۸۰ سے (ا یک سخت) عذاب(مقدر ) ہے اور اس کے سبب سے (بھی )عذاب (مقدر )ہے جو وہ کماتے ہیں۔تفسیر۔اَمَانِیَّ اُمْنِیَّۃٌ کی جمع ہے اور اِس کے معنے ہیں (۱) جس چیز کی تمنّا کی جائے (۲) جھوٹ (۳) جو چیز پڑھی جائے (۴) مقصود۔پس آیت کے معنے یہ ہوئے کہ یہود میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں صحف ِ بنی اسرائیل کا صرف اتنا علم حاصل ہے کہ وہ اُنہیں پڑھ سکتے ہیں۔مراد یہ کہ وہ اچھی طرح اُن کے سمجھنے پر قادر نہیں۔گویا اُمّی کے معنے اس جگہ پرمحدود کر لئے گئے ہیں اور ایسے اَنْ پڑھ کے معنے نہیں لئے گئے جو کہ کتاب کو لفظًا بھی نہ پڑھ سکتا ہو بلکہ اِس لفظ سے ایسے اَنْ پڑھ مراد لئے گئے ہیں جو لُغت کی باریکیوں سے واقف نہیں اور صرف موٹے موٹے معنے جانتے ہیں۔اِن معنوں کے رُو سے یہود پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وہ اپنی کتب کے گہرے مطالعہ کی کوشش نہیں کرتے۔ذومعانی الفاظ جو اُن میں استعمال کئے گئے ہیں اُن میں سے ایسے معنوں کو تو