تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 19
کے لئے تھی تاکہ وہ ان کے لئے کفّارہ ہو جائے۔انجیل اور تورات میں کفاّرہ کا ردّ یہ خیال جیسا کہ اوپر یہود کے عقائد کے بارہ میں لکھا جا چکا ہے یہود کے اس خیال کا نتیجہ ہے جو ان میں آخری زمانہ میں پیدا ہو گئے تھے کہ بزرگ لوگ جو تکلیف اُٹھاتے ہیں اس کا سبب قوم کو گناہوں کی سزا سے بچانا ہوتا ہے مگر یہ خیالات بائبل کی دوسری آیات کے بالکل خلاف ہیں مسیح علیہ السلام خود فرماتے ہیں۔’’اورجو کوئی اپنی صلیب اٹھاکے میرے پیچھے نہیں آتا میرے لائق نہیں۔‘‘(متی باب۱۰ آیت ۳۸) یہی بات بہ تغیرّالفاظ دوسری اناجیل میں بھی ہے۔اس آیت کے مضمون سے ظاہر ہے کہ مسیح علیہ ا لسلام اپنی صلیب سے لوگوں کی نجات وابستہ نہیں بتاتے بلکہ ہر اک شخص کا خود صلیب پر لٹکنا اس کی نجات کے لئے ضروری قرار دیتے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعات میں بھی جو موسوی سلسلہ کے بانی تھے اور جن کی تعلیم کو قائم کرنے کا دعویٰ حضرت مسیح کرتے ہیں اس قسم کے کفّارہ کی تردید پائی جاتی ہے۔تو رات میں لکھا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ ا لسلا م پہاڑ پر چالیس راتوں کے لئے گئے اور ان کے پیچھے بنی اسرائیل نے بچھڑا بنا لیا تو اﷲتعالیٰ کا غضب بنی اسرائیل پر بھڑکا اور اس نے ان کے تباہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔لکھا ہے۔’’ پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ مَیں اس قوم کو دیکھتا ہوں کہ ایک گردن کش قوم ہے۔اب تو مجھ کو چھوڑ کہ میرا غضب اُن پر بھڑکے اور میں انہیں بھسم کروں۔اور میں تجھ سے ایک بڑی قوم بناؤںگا۔‘‘ (خروج باب۳۲ آیت ۹،۱۰) اس کے بعد لکھا ہے کہ موسیٰ علیہ ا لسلام اپنی قوم کی طرف آئے اور شرک پر ناراضگی ظاہر کی۔اور پھر لکھا ہے’’ اور دوسرے دن صبح کو یوں ہوا کہ موسیٰ نے لوگوں سے کہا کہ تم نے بڑا گناہ کیا اور اب مَیں خداوند کے پاس اوپر جاتا ہوں کہ شاید میں تمہارے گناہ کا کفّارہ کروں۔چنانچہ موسیٰ خداوند کے پاس پھر گیا اور کہا کہ ہائے ان لوگوں نے بڑا گناہ کیا کہ اپنے لئے سونے کا معبود بنایا اور اب کاش کہ تو ان کا گناہ معاف کرتا۔مگر نہیں تو میں تیری منّت کرتا ہوں کہ مجھے اپنے دفتر سے جو تو نے لکھا ہے میٹ دے۔‘‘(خروج باب۳۲ آیت ۳۰ تا ۳۲) ان آیات سے ظاہر ہے کہ اپنی قوم کو حضرت موسیٰ ان کے گناہوں کا کفّارہ دینے کا وعدہ کر کے پہاڑ پر گئے اور انہوں نے خدا تعالیٰ سے عرض کی کہ یا تو ان کا گناہ یوُں ہی معاف کر دے نہیں تو مجھے تباہ کر کے ان کے گناہوں کا کفّارہ کر دے۔اس التجا کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے یہ جواب نہیں دیا کہ تُو تو گنہ گار ہے۔گنہ گارگنہ گار کا کفّارہ کس طرح ہو سکتا ہے بلکہ اﷲ تعالیٰ نے ان کو یہ جواب دیا کہ وہ جس نے میرا گناہ کیا ہے میں اسی کو اپنے دفتر سے میٹ دُوںگا۔‘‘ (خروج باب ۳۲ آیت۳۳) اس جواب سے معلوم ہوتا ہےکہ اﷲ تعالیٰ کسی گنہ گار کے بدلہ میں کسی دوسرے کو سزا نہیں دیتا بلکہ اس کا قانون یہی ہے کہ وہ گنہ گار ہی کو سزا دیتا ہے۔اس تعلیم کی موجودگی میں