تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 18

الدُّنْیَا۔وَالرَّحِیْمُ۔رَحِیْمُ الْاٰخِرَۃِ (تفسیر البحر المحیط زیرتفسیر سورة الفاتحۃ) رسول کریم صلعم نے فرمایا کہ رحمٰن دُنیا کی رحمتوں پر نظر رکھتے ہوئے ہے اور اَلرَّحِیْمُ کا نام آخرت کی رحمتوں پر نظر کرتے ہوئے ہے۔اس سے بھی معلوم ہوا کہ رحمٰن کے معنے بلا مبادلہ اور بغیر استحقاق رحم کے ہیں کیونکہ اس قسم کا رحم زیادہ تر اس دُنیا میں جاری ہے اور رحیم کے معنی نیک کاموں کے اعلیٰ بدلہ کے ہیں کیونکہ آخرت مقامِ جزا ہے۔تفسیر۔سورۃ براء ۃ کے ابتداء میں بسم اللہ کے نہ رکھے جانے کی وجہ قرآن کریم کی سب سورتیں بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سے شروع ہوتی ہیں سوائے سورۃ براء ۃ کے مگر اس کے بارہ میں زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ وہ الگ سورۃ نہیں بلکہ سورۃ انفال کا تتمہ ہے اور اس لئے اس میں الگ بسم اللّٰہ نہیں لکھی گئی۔چنانچہ ابو دائود میں ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ اِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ لَایَعْرِفُ فَصْلَ السُّوْرَۃِ حَتّٰی تُنَزَّلَ عَلَیْہِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ (ابو داؤد کتاب الصّلوٰۃ باب مَنْ جَہَرَ بِـبِسْمِ اللہ) یعنی جب ایک سورۃ کے بعد دوسری سورۃ نازل ہوتی تھی تو پہلے بسم اللہ نازل ہوا کرتی تھی اور بسم اللہ کے بغیر رسول کریم صلعم کسی وحی کو دوسری سورۃ قرار نہیں دیا کرتے تھے۔حاکم نے مستدرک میں بھی یہ روایت بیان کی ہے۔(تفسیرابن کثیر تفسیر سورۃ الفاتحۃ) اس حدیث سے ظاہر ہے کہ ہر نئی سورۃ سے پہلے بسم اللہ نازل ہوتی تھی اورپہلی سورۃ کا اختتام ہی تب سمجھا جاتا تھا جب بسم اللہ کے نزول سے دوسری سورۃ کے ابتدا کا اعلان کر دیا جاتا تھا۔پس جبکہ بَرَائَ ۃ سے پہلے بسم اللہ نازل نہیں ہوئی یا یُوں کہو کہ اَنْفَال کے بعد بِسْمِ اللّٰہِ نازل ہوکر بَرَاءَ ۃ کی آیات نازل نہیں ہوئیں تو یقیناً وہ الگ سورۃ نہیں ہے بلکہ اَنْفَال کا حصّہ ہی ہے۔تمام سورتوں سے پہلے بسم اللہ وحی الٰہی سے لکھی گئی اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ تمام سورتوں سے پہلے جو بسم اللہ درج ہے وہ وحی الٰہی سے ہے اور قرآن کریم کا حصّہ ہے زائد نہیں۔بسم اللہ کا سورۃ فاتحہ کا حصہ ہونے کا ثبوت احادیث سے بسم اللہ کے متعلق بعض علماء نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ہر سورۃ کا حصہ بسم اللہ نہیں بلکہ صرف سورۃ فاتحہ کا حصّہ بسم اللہ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ کسی سورۃ کا حصّہ بھی بسم اللہ نہیں ہے لیکن یہ خیال درست نہیں۔اوّل تو مذکور ہ بالا حدیث ہی اس خیال کو ردّ کرتی ہے دوسرے بہت سی اور احادیث ہیں جن میں بسم اللہ کو رسول کریم صلعم نے سورتوں کا جزو قرار دیا ہے۔مثلاً سورۃ فاتحہ کا حصّہ ہونے کے متعلق دارقطنی نے مرفوعاً ابوہریرہؓ سے روایت کی ہے قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا قَرَأْ تُمْ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ فَاقْرَءُ وْا بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اِنَّہا اُمُّ القُرْآنِ وَ اُمُّ الْکِتَابِ وَالسَّبْعُ الْمَثَانِیْ وَ بِسْمِ