تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 210

خَوْفٌ یَشُوْبُہٗ تَعْظِیْمٌ یعنی خشیت اس خوف کو کہتے ہیں جس میں اس شخص کی بزرگی اور تعظیم کا خیال بھی شامِل ہو جس سے خشیت کی جائے۔پھر لکھتے ہیں وَاَکْثَرُ مَا یَکُوْنُ ذٰلِکَ عَنْ عِلْمٍ بِمَا یُخشٰی مِنْہُ اور لفظ خشیت کا اکثر استعمال اس جگہ ہوتا ہے جہاں خوف کی وجہ کا بھی علم ہو وَلِذٰلِکَ خُصَّ الْعُلَمَاءُ بِھَا فِی قَوْلِہٖ ’’ اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاءُ (الفاطر:۲۹) یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا کی خشیت اس کے عالم بندوں کے دل میں ہوتی ہے ورنہ خوف تو عام لوگوں کے دلوں میں بھی ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے۔(مفردات) بِغَافِل۔غَافِلٌ غَفَلَ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اور غَفَلَ عَنْہُ غَفْلَۃٌ کے معنے ہیں تَرَکَہٗ وَسَھٰی عَنْہُ کسی چیز ( پر مداومت) کو چھوڑ دیا اور اس کو بھول گیا۔نیز کہتے ہیں غَفَلَ الشَّیْءَ اور معنے یہ ہوتے ہیں سَتَرَہُ یعنی فلاں چیز پر پردہ ڈال کر اُس کو ڈھانپ دیا (اقرب) اَلْغَفْلَۃُ سَھْوٌ یَعْتَرِی الْاِنْسَانَ مِنْ قِلَّۃِ التَّحَفُّظِ وَ التَّیَقُّظِ یعنی قوتِ حافظہ اور دماغی بیداری کے کم ہونے کی وجہ سے کسی چیز کو بھلادینا غفلت کہلاتا ہے ( لسان) اہلِ عرب کہتے ہیں اَنْتَ غَافِلٌ اور مطلب یہ ہوتا ہے لَا تَعْنِیْ بِشَیْءٍ کہ تُو تو کسی شے کی طرف توجہ نہیں دیتا ( لسان) ابوالبقاء کہتے ہیں اَلغَفْلَۃُ ھُوَالذُّ ھُوْلُ عَنِ الشَّیْءِ کہ کسی چیز کو بھلا دینا غفلت کہلاتا ہے ( تاج ) غَافِلٌ کی جمع غَافِلُوْنَ ، غُفُوْلٌ اور غُفَّلٌ آتی ہے۔(اقرب)پس وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ کے معنے ہوں گے کہ(۱) اﷲ ایسا نہیں ہے کہ تمہارے اعمال سے بے خبر ہو جائے (۲) تمہارے اعمال پر پردہ ہی ڈالتا چلا جائے (۳)تمہارے اعمال کو بھلا دے اور اُن کا کوئی نتیجہ نہ نکالے(۴) تمہارے اعمال کی طرف سے اپنی توجہ کو ہٹالے۔تفسیر۔ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ پھر تمہارے دل سخت ہو گئے اس آیت میں ثُمَّ کا لفظ بتاتا ہے کہ اس کا مضمون پہلی آیتوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور مراد یہ ہے کہ پہلے نشانات کی وجہ سے چاہیے تو یہ تھا کہ تمہارے دلوں میں نرمی پیدا ہوتی مگر تمہارے دل اور بھی زیادہ سخت ہو گئے چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ کعب بن اشرف اور ابورافع بن ابی الحقیق کے قتل کئے جانے کے باوجود اور بنوقینقاع کے مدینہ سے نکالے جانے کے باوجود یہود کے دوسرے دو قبیلوں یعنی بنو نضیر اوربنو قر یظہ شرارتوں میں اور بھی بڑھ گئے۔فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً۔فرماتا ہے وہ دل پتھروں کی طرح ہو گئے بلکہ سختی میں اُن سے بھی زیادہ۔پتھر کے ساتھ دل کی سختی کی مشابہت قریبًاہر زبان میں دی جاتی ہے یہاں بھی وہی مشابہت مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ خدائی باتوں کو قبول کرنے کے لئے اُن کے دل تیار نہیں ہوتے حتّٰی کہ پتھر میں بھی کوئی نرمی ہوتی ہے مگر ان کے دلوں میں کوئی نرمی نہیں۔