تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 209
میں ہوں گے وَالنَّھَرُ۔اَلسَّعَۃُ تَشْبِیْھًا بِنَھْرِ المَآءِ۔نَھَر کے معنی وسعت کے ہیں۔نہر کا پانی چونکہ وسیع ہوتا ہے اس لئے اس کو اس پر قیاس کر لیا۔چنانچہ کہتے ہیں نَھْرٌ نَھِرٌ اَیْ کَثِیْرُ الْمَآءِ بہت پانی والا دریا۔(مفردات) یَشَّقَّقُ۔اصل میں یَتَشَقَّقُ ( باب تفعّل سے مضارع واحد غائب کا صیغہ ) تھا۔ت کو شین میں اِدغام کیا گیا۔اس کی ثلاثی شَقَّ ( یَشُقُّ) ہے۔شَقَّ الشَّیْءَ (متعدی ) کے معنے ہوتے ہیں صَدَعَہٗ وَفَرَّقَہٗ کہ کسی چیز کو پھاڑ دیا اس کو علیحدہ علیحدہ کر دیا۔تَشَقَّقَ ( باب تفعّل میں) اَلْحَطَبُ کے معنے ہیں کہ ( کسی نے) لکڑی (کو پھاڑا اور وہ) پھٹ گئی۔آیت ھٰذا میں یَشَّقَّقُ کے معنے ہوں گے ( بعض دل) پھٹ جاتے ہیں۔(اقرب) یَھْبِطُ۔ھَبَطَ سے مضارع واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے اور ھَبَطَ مِنَ الْخَشْیَۃِ کے معنی ہیں تَضَاءَ لَ وَخَشَعَ یعنی ڈر کی وجہ سے کمزور اور چھوٹا ہو گیا اور اس نے عاجزی اختیار کی ( اقرب) اَلْھَبُوْطُ اَ لْاِنْحِدَارُ اوپر سے نیچے کی طرف گرنا۔( مفردات) ھَبَطَہُ (یَھْبُطُ ھَبْطًا) مِنَ الْجَبَلِ کے معنے ہیں اَنْزَلَہٗ اس کو پہاڑ سے اُتارا۔ھَبَطَ بَلَدًا کَذَا۔دَخَلَہٗ کسی شہر میں داخل ہوا (یہ متعدّی بھی استعمال ہوتا ہے چنانچہ ھَبَطَہٗ بَلَدًا کَذَا کے معنے ہوں گے اَدْخَلَہٗ اس کو فلاں شہر میں داخل کیا) ھَبَطَ السُّوْقَ: اَتَاھَا بازار میں آیا۔ھَبَطَ فُـلَانٌ مِنَ الْجَبَلِ (یَھْبُطُ وَ یَھْبِطُ ھُبُوْطًا) نَزَلَ پہاڑ سے اُترا۔ھَبَطَ الْوَادِیَ : نَزَلَہٗ وادی میں اُترا۔ھَبَطَ مِنْ مَوْضِعٍ اِلٰی مَوْضِعٍ آخَرَ: اِنْتَقَل ایک جگہ سے دوسری جگہ چلا گیا (اقرب) پس اِھْبِطُوْاکے معنے ہوں گے(۱) اپنی جائے قیام کو چھوڑ کر کسی اور جگہ قیام پذیر ہو جائو (۲) نکل جائو۔پس یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللہِ کے معنے ہوں گے کہ(۱) ان دلوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ ( معافی مانگتے ہوئے) اﷲ کے ڈر سے گر جاتے ہیں (۲) اﷲ کے ڈر کی وجہ سے عاجزی اختیار کرتے ہیں۔خَشْیَۃٌ۔خَشِیَہٗ (یَخْشَاہُ خَشْیَۃً) کے معنے ہیں خَافَہٗ وَ اتَّقَاہُ کسی چیز سے ڈر ااور اس سے خوف محسوس کیا۔اَلْخَشْیَۃُ کے معنے ہیں اَلْخَوْفُ خوف۔(اقرب) کلیات ابی البقا میں ہے اَلْخَشْیَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْخَوْفِ وَالْخَشْیَۃُ تَکُوْنُ مِنْ عَظْمَۃِ الْمَخْشِیِّ وَ الْخَوْفُ یَکُوْنُ مِنْ ضُعْفِ الْخَآئِفِ ( بحوالہ اقرب) یعنی لفظ خشیت میں ڈر کا مفہوم لفظ خوف کی نسبت زیادہ پایا جاتا ہے نیز خشیت اور خوف میں ایک یہ بھی فرق ہے کہ خشیت میں اس ڈر کے معنے پائے جاتے ہیں جو مَخْشَی ( یعنی جس ذات سے ڈرا جائے) کی عظمت کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے اور خوف میں اس ڈر کا مفہوم پایا جاتا ہے جو ڈرنے والے کی اپنی کمزوری پر دلالت کرتا ہے۔امام راغب لکھتے ہیں اَلْخَشْیَۃُ