تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 157

لَمْ تَأْتِ عَلَیْہِ الشَّمْسُ (بخاری کتاب المناقب بَابُ عَلَامَاتِ النُبُوَّةِ فِی الْاِسْلَام) جس کے لفظی معنے یہ ہیں کہ ایک لمبا پتھر ہمارے لئے اُٹھا یا گیا لیکن مراد یہ ہے کہ پاس ہی ایک اونچا پتھر نظر آیا۔اسی طرح فوق کا محاورہ قرآن کریم میں موجود ہے جیسا کہ سورۂ احزاب میں آتا ہے۔اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا۔هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِيْدًا۔( الاحزاب :۱۱،۱۲) اس کے لفظی معنے تو یہ ہیں کہ دشمن تمہارے اوپر کی طرف سے آ گیا لیکن اصل مطلب یہ ہے کہ اونچی جانب کی طرف سے آ گیا۔غرض اس آیت سے یہی مراد ہے کہ یہود کو طُور کے نیچے کھڑا کیا گیا اور بعض احکام ان کو دیئے گئے جن پر پابند رہنے کا اُن سے عہد لیا گیا جیسا کہ خروج باب ۱۹ آیت ۱۶ تا ۲۵ سے ثابت ہے۔وہاں لکھا ہے ’’ اور یوں ہوا کہ تیسرے دن صبح کو بادل گرجے اور بجلیاں چمکیں اور پہاڑ پر کالی گھٹا امڈی اور قرنائی کی آواز بہت بلند ہوئی چنانچہ سارے لوگ ڈیروں میں کانپ گئے اور موسیٰ ؑ لوگوں کو خیمہ گاہ سے باہر لایا کہ خدا سے مِلاوے اور وَے پہاڑ کے نیچے آ کھڑے ہوئے اور سب کو ہِ سینا پر زیرو بالادُھواں تھا کیونکہ خداوند شعلے میں ہو کے اس پر اُترا اور تنور کا سا دُھواں اس پر سے اُٹھا اور پہاڑ سراسر ہل گیا اور جب قرنائی کی صدا بہت بڑھائی گئی اور بلند سے بلند ہوتی جاتی تھی موسیٰ نے کلام کیا اور خدا نے اسے ایک آواز سے جواب دیا اور خداوند کوہِ سینا پہاڑ کی چوٹی پر نازل ہوا اور خداوند نے پہاڑ کی چوٹی پر موسیٰ کو بلایا اورموسیٰ چڑھ گیا اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اُتر جا اور لوگوں کو تقیّد کر تا نہ ہووے کہ حدوں کو توڑ کے خداوند کے پاس دیکھنے کو آویں اور بہتیرے اُن میں ہلاک ہو جاویں اور کاہنوں کو بھی جو خداوند کے نزدیک آئے ہیں کہہ۔اپنے کو پاک کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ خداوند اُن میں رخنہ ڈال دے۔تب موسیٰ نے خداوند سے کہا کہ لوگ کوہِ سینا پر آ نہیں سکتے کیونکہ تو نے تو ہمیں تاکید کر کے کہا ہے کہ پہاڑ کے لئے حدّیں مقرر کر رکھو اور اس کو پاک کرو۔خداوند نے اسے کہا کہ چل نیچے جا اور تجھ کو پھر اُوپر آنا ہو گا۔ُتو اور ہارون تیرے ساتھ۔پرکاہن اور لوگ حدّیں توڑ کے خداوند پاس اوپر نہ آویں۔نہ ہووے کہ اُن میں رخنہ ڈال دے چنانچہ موسیٰ لوگوں پاس تلے اُترا اور اُن سے کلام کیا۔‘‘ اِس آیت میں طُور کے اُٹھانے کا فعل اﷲ تعالیٰ کی طرف اس لئے منسوب کیا گیا ہے کہ پہاڑ کے نیچے رہنے کا تاکیدی حکم اُن کو اﷲ تعالیٰ نے ہی دیا تھا چنانچہ خروج باب ۱۹ آیت ۲۱ میں لکھا ہے’’ اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اُتر جا اور لوگوں کو تقیّد کرتا نہ ہووے کہ حدّوں کو توڑ کے خداوند کے پاس دیکھنے کو آویں اور بہتیرے ان میں ہلاک ہو جاویں۔‘‘