تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 156
تھا اس پہاڑ کو جبل الطور کہنے لگ گئے یعنی طُور پہاڑ۔حالانکہ عبرانی زبان میں بھی طور کے معنے پہاڑ کے تھے اور عربی زبان میں بھی طُور کے معنے پہاڑ کے تھے اور جب عبرانی لوگ کہتے تھے طُور پر خدا تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے باتیں کیں تو اس کے معنے محض اتنے ہوتے تھے کہ خدا تعالیٰ نے ایک پہاڑ پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا۔قرآن کریم میں بھی گو طُور کا لفظ اسی رنگ میں استعمال کیا گیا ہے جس رنگ میں عربی میں استعمال ہوتا تھا اور ایسا ہی کرنا چاہیے تھا لیکن اُس میں اس طرف بھی اشارہ کر دیا گیا ہے کہ طُور پہاڑ کو کہتے ہیں نہ یہ کہ یہ کسی خاص پہاڑ کا نام ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَيْنَآءَ (المؤمنون :۲۱) یا فرماتا ہے۔وَ التِّيْنِ وَ الزَّيْتُوْنِ۔وَ طُوْرِ سِيْنِيْنَ(التّین:۳،۲) ان دونوں حوالوں میں طُور لفظ کی سیناء کی طرف اضافت کر کے بتایا گیا ہے کہ طُوْر کا لفظ وضعِ لغت کے لحاظ سے کسی خاص پہاڑ کا نام نہیں بلکہ اس کے معنی ہی پہاڑ کے ہیں اورموسیٰ کے طور سے مراد محض دشتِ سیناء کا ایک پہاڑ ہے۔رَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ سے مراد پہاڑ کو بنی اسرائیل کے سروں کے اوپر کھڑا کرنا نہیں اس آیت سے بعض لوگوں نے دھوکا کھایا ہے اور اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ پہاڑ کو بلند کر کے بنی اسرائیل کے سر کے اوپر کھڑا کر دیا گیا تھا اور اس غلط مطلب کو لے کر راڈوِل صاحب نے بھی اسلام پر ایک اعتراض کر دیا ہے اور لکھتے ہیں کہ یہ غلطی خروج باب ۱۹ آیت ۱۷ کے نہ سمجھنے کی وجہ سے یہود کو لگی ہے اور ان سے سن کر قرآن کریم میں نقل کر دی گئی ہے (خروج باب ۱۹ آیت ۱۷ کے الفاظ یہ ہیں ’’ اورموسیٰ لوگوں کو خیمہ گاہ سے باہر لایا کہ خدا سے ملاوے اور وَے پہاڑ کے نیچے آ کھڑے ہوئے۔‘‘ عربی کی بائبل میں یہ الفاظ ہیں وَ اَخَرَجَ مُوْسَی الشَّعْبَ مِنَ الْمَحَلَّۃِ لِمُلَاقَاۃِ ﷲِ فَوَقَفُوْا فِیْ اَسْفَلِ الْجَبَلِ ) لیکن اصل بات یہ کہ جس طرح بقول راڈوِل یہود نے خروج باب ۱۹ کی آیت ۱۷ کے معنے غلط سمجھے ہیں اسی طرح یہود کے قصوں پر یقین کر کے بعض لوگوں نے اس آیت کے وہ معنے کر دئے ہیں جو یہود میں طُور کے اُٹھائے جانے کے متعلق مشہور تھے۔حالانکہ اس آیت کا یہی مطلب ہے کہ یہ عہد ایسے وقت میں ہوا جب تم دامنِ کوہ میں تھے اور یہ معنے عربی زبان کے محاورہ کے عین مطابق ہیں۔جن دو لفظوں سے اس آیت کے معنے کرنے میں دھوکا لگا ہے وہ رفع اور فوق ہیں۔رفع کے معنے اُٹھانے اور فوقکے معنے اوپر کے ہیں لیکن محاورۂ زبان میں یہ الفاظ صرف بلندی کے معنے میں بھی آتے ہیں جیسا کہ بخاری کی کتاب المناقب میں براء بن عاذبؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر خلیفۂ اوّل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ہجرت کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا۔مدینہ کی طرف آتے ہوئے جب گرمی سے سخت تکلیف ہوئی اور دوپہر کا وقت آگیا تو رُفِعَتْ لَنَا صَخْرَۃٌ طَوِیْلَۃٌ لَھَا ظِلٌّ