تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 86

کو بچنا چاہیے۔چنانچہ سود کا کاروبار کرنے والی قومیںلڑائی پر دلیر ہوتی ہیں اور امن عامہ کی پرواہ نہیں کرتیں اس بات سے مت ڈرو کہ سود کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی دنیا میں ایسے سامان پیدا کر دیئے جائیںگے کہ سود خوار قومیں تباہ ہو جائیںگی۔خلاصہ رکوع ۳۹ حسنِ سلوک اور تعاون باہمی کا ایک طریق قرض بھی ہے جو اپنے اموال کلی طو رپر اپنے حاجت مند بھائی کو نہیں دے سکتا لیکن قرض سے اس کی مدد کر سکتا ہے اسے اس سے دریغ نہیں کرنا چاہیے مگر قرض کا چونکہ کچھ مدت بعد مطالبہ ہوتا ہے اس لئے قرض کو لکھ لینا چاہیے اور گواہ مقرر کر لینے چاہئیں تا فساد نہ ہو اور اگر لکھنے والا نہ ہو تو شہادت کے طور پر کوئی چیز رہن رکھ دینی چاہیے۔خلاصہ رکوع ۴۰ مگر سب سے بڑا ُگر پاکیزگی اور طہارت کا (۱) اللہ تعالیٰ کی صفات کو سامنے رکھنا (۲) کلام الٰہی پر ایمان اور تدبر (۳) انبیاء اور صلحاء اور اشخاص متعلقہ کی دعا ہے۔یہ خلاصہ ہے سورۃ بقرہ کا اور اس میں بلاواسطہ تو یہود و نصاریٰ اور قریش پر اس رنگ میں حجت تمام کی گئی ہے کہ ابراہیم ؑکی ایک دعا کا جو مقبول بارگاہ الٰہی ہو چکی پورا ہونا باقی تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود اس دعا کو پورا کرتا ہے پس اگر ان کے وجود کا انکار کیا جائے تو ابراہیم بھی جھوٹے بنتے ہیں اور ان کے جھوٹا ہونے سے موسویت اور مسیحیت بھی ساتھ ہی جھوٹی ہو جاتی ہیں اور بالواسطہ تمام دنیا پر اسلام کی صداقت ثابت کی گئی ہے کیونکہ انسان کی پیدائش بغیر مقصد کے نہیں ہو سکتی اور اس مقصد کو اگر کوئی کلام پورا کرتا ہے تو وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا کلام ہے کیونکہ اسی سے معرفت ِالٰہی صحیح قانون اور فلسفۂ شریعت او رپاکیزگی قلب جیسے ضروری امور حاصل ہوتے ہیں۔اگر کوئی ان نوٹوں کی مدد سے سورۂ بقرہ کو پڑھے گا تو مَیں سمجھتا ہوں اسے اس سورۃ میں ایک نیا لطف آئے گا اور اس کے مطالب کا ایک وسیع دروازہ اس کے لئے کھل جائے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔سورۃ بقرہ کا تعلق سورہ فاتحہ سے سورۃ فاتحہ کا تعلق تو کلام الٰہی کا خلاصہ ہونے کے وجہ سے سب ہی سورتوں سے ہے لیکن سورۃ بقرہ کو چونکہ اس کے معاً بعد رکھا گیا ہے اس سورۃ کا تعلق سورۃ فاتحہ سے یقینا سب سے زیادہ ہے۔سورۂ بقرہ کے مضمون کے سورۂ فاتحہ سے دو تعلق چنانچہ اوّل تعلق تو اس کا اس سے یہ ہے کہ جس طرح سورۃ فاتحہ خلاصہ ہے سارے قرآن کریم کا۔اسی طرح یہ سورۃ بھی خلاصہ ہے سب قرآن کا کیونکہ اس میں دلائل و براہین بھی بیان کئے گئے ہیں شریعت بھی اور فلسفۂ شریعت بھی اور پاکیزگی اور طہارت کے ُگر بھی بیان کئے گئے ہیں