تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 72

کے یاد کرنے سے صرف اس لئے رکا رہا ہوں کہ کہیں مجھے بعد میں بھول نہ جائے۔یہ سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن سیکھو اور اسے پڑھتے رہا کرو کیونکہ جو شخص قرآن سیکھتا ہے او رپھر اسے پڑھتا رہتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال اس تھیلی کی سی ہے جس میں مشک بھرا ہوا ہو اور اس کی خوشبو نکل نکل کر سارے مکان میں پھیل رہی ہو۔اور جو شخص قرآن سیکھ کر سو جائے اس حالت میں کہ قرآن اس کے اند رہو اس کی مثال اس تھیلی کی سی ہے جس میں مُشک بند پڑا ہو۔(ترمذی ابواب فضائل القرآن باب سورۃ البقرۃ۔ابن ماجة نے بھی اس روایت کو جزواً روایت کیا ہے) ابن مردویہ نے عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت کی ہے کہ جس گھر میں سورۃ بقرہ کی تلاوت کی جائے اس سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔(ابن کثیر تفسیر سورۃ البقرۃ) اسی طرح دارمی نے اپنی مسند میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت درج کی ہے کہ جو شخص سورۃ بقرہ کی دس آیتیں رات کے وقت پڑھے صبح تک شیطان اس کے گھر میں داخل نہیں ہوتا۔یعنی سورۂ بقرہ کے ابتداء کی چار آیتیں آیۃالکرسی اور اس کے بعد کی دو آیتیں اور سورۂ بقرہ سے آخر کی تین آیتیں جو لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں۔(یہ آخری رکوع ہے جس میں صرف تین آیتیں ہیں) (سنن الدارمی کتاب فضائل القرآن باب فضل اوّل سورة البقرة و آیت الکرسی) بظاہر سورتوں کے ذاتی فضائل کا ذکر ایک تعلیم یافتہ آدمی پر گراں گزرتا ہے کیونکہ کسی سورۃ کا صرف سورۃ کے ہونے کے لحاظ سے کوئی خاص اثر رکھنا بے معنی سا معلوم ہوتا ہے لیکن اگر اس امر کو اس نگاہ سے دیکھا جائے کہ ہر سورۃ خاص مضمون پر مشتمل ہوتی ہے اور وہ مضمون ضرور قلب پر کوئی اثر چھوڑتا ہے تو فضائل کا بیان آسانی سے سمجھ میں آ جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سورۃ بقرہ کے یاد کرنے پر ایک نوجوان کو لشکر کا امیر بنا دیا۔اس میں کئی حکمتیں تھیں۔اوّل آپؐ نے اس طرح دوسرے لوگوں کے دلوں میں زیادہ سے زیادہ قرآن یاد کرنے اور یاد رکھنے کی خواہش پیدا کی۔اسلامی لشکروں کی سرداری مالی لحاظ سے منفعت بخش نہ تھی مگر اپنے روحانی باپ کی خوشنودی کی جو قدر صحابہ کے دل میں تھی اسے صرف محبت کی چاشنی سے واقف لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں دوسرے اس میں یہ بھی حکمت تھی کہ اس زمانہ میں جو سردار لشکر ہوتا تھا وہی عام طو رپر امام الصلوٰۃ بھی ہوتا تھا اور اسی سے لوگ مسائل وغیرہ بھی دریافت کرتے تھے اور سورۃ بقرہ میں باقی سب سورتوں سے زیادہ مسائل بیان ہوئے ہیں