تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 70
میں آپ کے سوا کسی اور شے کا عشق پیدا ہو جائے اور مَیں آپ کو چھوڑ کر کسی اور طرف چلا جائوں۔یہ ایک ایسی کامل اور جامع دُعا ہے جو خدا تعالیٰ نے محض اپنے رحم سے انسان کو اپنے حضور عرض کرنے کے لئے تعلیم کی ہے کہ جس کے مقابلہ میں کوئی اور مذہب اپنے آپ کو پیش نہیں کر سکتا۔غور کرو کس طرح انسانی فطرت کا اوّل سے آخر تک نقشہ کھینچ دیا ہے اور کس طرح تمام قسم کے متفرق خیالات کے لوگوں کا علاج اس چھوٹی سی سورۃ میں بتا دیا ہے پس جو سمجھنے والے ہیں سمجھیں اور جو سوچنے والے ہیں سوچیں کہ دُنیا کا نجات دہندہ مذہب سوائے اسلام کے اور روحانی بیماریوں کا علاج سوائے قرآن کے کوئی نہیں۔آمِیْن صحیح حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جب سورۃ فاتحہ کو غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ پر ختم کرتے تو آمین کہتے جس کے معنے اَللّٰھُمَّ اسْتَجِبْ لَنَا کے ہیں۔یعنی اے اللہ !ہماری یہ عرض قبول فرما۔اور باتباع ارشاد نبوی صحابہ رضی اللہ عنہم کا یہی عمل ثابت ہے۔خ خ خ