تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 68
اس کی تمام ضروریات کو پورا کیا ہے تو وہ بے اختیار کہہ اُٹھتا ہے کہ میری سب سے بڑی ضرورت تو حضور تک پہنچنا ہے اس کے پورا کرنے کے سامان بھی پیداکیجئے۔پھر الرَّحِیْم (یعنی محنت کا عمدہ بدلہ دینے والا) کے مقابلہ میں صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ رکھا یعنی ایسے لوگوں کا رستہ دکھایئے جن پر آپ نے انعام کئے ہیںسیدھے راستہ پر چلاتے چلاتے مجھے ان انعامات کا وارث کر دیجئے جو پہلے لوگوں کو ملے ہیں۔کیونکہ رحیمیّت چاہتی ہے کہ کسی کام کو ضائع نہ ہونے دیا جائے۔پھر مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ کے مقابلہ میں غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ کو رکھا کیونکہ جب انسان کو یقین ہو کہ میرے اعمال کا حساب لیا جائے گا تو فوراً اس کے دل میں ناکامی کا خو ف بھی پیدا ہو جاتا ہے۔پس بندہ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ پر غور کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچنے کی دُعا کرتا ہے۔فطرت انسانی کے بموجب انسانی راہنمائی اس سورۂ شریفہ کی آیات پر اگر نظر غور ڈالی جائے اور ان کی ترتیب کو چشم تعمّق سے ملاحظہ کیا جائے تو صاف عیاں ہو جاتا ہے کہ اس میں انسان کے لئے بتدریج روحانی منازل طے کرنے اور منزل بہ منزل چل کر آخر قربِ الٰہی کا شرف حاصل کرنے کی ہدایات مندرج ہیں کسی ذات کی فرمانبرداری یا عبادت دوہی وجہ سے ہوتی ہے یا محبت سے یا خوف سے۔سو اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں اپنی دونوں قسم کی صفات کی طرف متوجہ کیا ہے بعض لوگ جن کی طبیعت میں احسان کی قدر کا مادہ زیادہ ہوتا ہے احسان کو دیکھ کر فرمانبرداری کرتے ہیں اور بعض لوگ احسانوں کی پرواہ بھی نہیں کرتے مگر خوف ان کو فرمانبرداری پر مجبور کر دیتا ہے۔لیکن دانا انسان کا یہ کام ہے کہ پہلے محبت سے کام لے اور اگر اس سے کام نہ چلے تو پھر خوف دلائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی اس سورۃ میں پہلے اپنی اُن صفات کا بیان کیا ہے جن پر غور کرنے سے انسان کا دل محبت ِ الٰہی سے پُر ہو جاتا ہے اس کا نام اللّٰہ ہے یعنی سب خوبیوں کا جامع اور سب نقائص سے منزّہ ہے۔سب اشیاء کا خالق او ران کا رازق ہے۔مومن و کافر سب کی ربوبیّت کرتا ہے۔اس نے ہماری زیست کے وہ سامان جن سے ہم واقف بھی نہیں ہمارے لئے پیدا کئے ہیں۔اور ہم جو نیک عمل کریں ان کا بہتر سے بہتر انعام دیتا ہے جو لوگ کسی چیز کی خوبصورتی یا اس کے احسان کو دیکھ کر فرمانبرداری کرنے کے عادی ہیں وہ ان صفات کو دیکھ کر بے اختیار اِیَّاکَ نَعْبُدُ کہہ کر اُس کے آگے جُھک جاتے ہیں لیکن جو لوگ محبت کے اثرات سے ناواقف ہوتے ہیں اور سخت سلوک کے عادی ہوتے ہیں وہ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنَ کی صفت پر جب غور کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جزا سزا کے دن کا مالک ہے اور ایک دن اس کے سامنے حاضر ہو کر اس کے سب انعامات کا حساب دینا ہو گا وہ خوف کی وجہ سے بے اختیار ہو کر اس کے آگے گردن جھکا دیتے ہیں اور اِیَّاکَ نَعْبُدُ کہہ اُٹھتے ہیں۔غرض کوئی انسان ہو خواہ محبت سے متأثر ہونے