تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 67
مذہب ہمیشہ کے لیے تباہ ہو جائے گا اس لئے اس دعا کی ضرورت ہی نہیں کہ خدا مسلمانوں کو مشرکین مکہ سا ہونے سے بچائے لیکن یہود اور نصاریٰ کا مذہب قائم رہے گا اس لئے اس بارہ میں دعا کرنے کی ضرورت رہے گی کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ میں شامل ہونے سے بچائے۔یہودی فتنہ سے بچائے جانے کی دعا سکھانے کا مطلب اس آیت میں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ مسیحی تو اپنے مذہب میں مسلمانو ںکو شامل کرتے ہیں اس لئے اس دُعاکی ضرورت معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو نصارٰے کے فتنہ سے بچائے لیکن یہود تو بالعموم غیر مذاہب کے افرا دکو اپنے اندر شامل نہیں کرتے پھر اس دعا کی کیا ضرورت ہے کہ خدا تعالیٰ انہیں یہود ہونے سے بچائے؟ خدا تعالیٰ کا کلام ایک بے معنی اور بے ضرورت دعا کے کرانے کا مجرم نہیں ہو سکتا نہ یہ سمجھ میں آ سکتا ہے کہ محمدؐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایسی غیرضروری دعا دن میں تیس چالیس بار پڑھنے کا حکم دیں گے۔پس مسلمانوں کو غور کرنا چاہیے کہ یہودی فتنہ کسی اور رنگ میں تو ان کے لئے ظاہر نہیں ہونے والا۔کیا یہ تو ممکن نہیں کہ آنے والے مسیح کا انکار کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کی حالت یہود کے مشابہ ہو جائے گی۔اوریہ حالت اس وقت ہو گی جبکہ مسیحی فتنہ بھی بڑے زور سے اسلام پر حملہ کر رہا ہو گا۔پس ایک طرف تو ایک مثیل مسیح کا انکار کر کے انہیں یہود سے مشابہت ہو جائے گی اور وہ خدا تعالیٰ کی نصرت سے محروم ہو جائیں گے دوسری طرف مسیحیت ان پر حملے کر کے ان کے ہزاروں جگر کے ٹکڑے ان سے چھین کر لے جائے گی۔کیا یہ آیت ایک زبردست پیشگوئی نہیں ہے۔کیا اس سے فائدہ اٹھا کر وہ ان دو آگوں سے نجات حاصل نہیں کر سکتے؟ سورۃ فاتحہ کی آیات میں پرُلطف ترتیب اس سورۃ پر نظرِ غائر ڈالنے سے ایک اور لطیف خوبی کاپتہ چلتا ہے جو خدا تعالیٰ نے اس سورۃکی آیات میں رکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ صفاتِ الٰہیہ اور دُعائوں کا بیان بالکل ایک دوسرے کے مقابل میں ہوا چنانچہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ (یعنی سب تعریف اللہ کے لئے ہے) کے مقابلہ میں اِیَّاکَ نَعْبُدُ (ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں) ہے جس سے بتایا ہے کہ جونہی انسان معلوم کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب خوبیو ںکا جامع ہے تو وہ بے اختیار کہہ اُٹھتا ہے کہ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں پھر رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ کے مقابلہ میں اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کو رکھا ہے کیونکہ جب انسان کو یقین ہو جائے کہ ہمارا خدا ہر ایک ذرہ ذرہ کا خالق اور محسن ہے تو وہ کہہ اُٹھتا ہے کہ ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔اسی طرح الرَّحْمٰن کے مقابلہ میں جس کے معنے بغیر محنت اور مبادلہ کے دینے والا۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَکو رکھا ہے۔کیونکہ جب انسان دیکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کے کسی عمل کے بغیر