تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 564
کے مطابق یہ قابلِ اعتراض ہے کیونکہ عربی میں اس جگہ جمع کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔عربی کے علماء نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ جب افعل التفضیل کا صیغہ استعمال ہو جیسا کہ اوّل کا لفظ ہے اور وہ کسی ایسے نکرہ کی طرف مضاف ہو جو صفت کا صیغہ ہو جیسا کہ کافر کا لفظ ہے تو اس وقت اس نکرہ کو جو صفت کا صیغہ ہو مفرد لانا بھی جائز ہے اور جمع لانا بھی جائز ہے اور اس کی مثال کے طورپر فَرَّاء نے ایک شاعر کا یہ شعر نقل کیا ہے ؎ وَاِذَا ھُمْ طَعِمٌ فَاَ لْأَ مُ طَاعِمٍ وَاِذَا ھُمْ جَاعُوْا فَشَرُّ جِیَاعٍ یعنی جب وہ قوم کھاتی ہے تو کھانے والوں میں سے سب سے بُری ہوتی ہے اور جب وہ بھوکی ہوتی ہے تو بھوکوں میں سے بدترین ہوتی ہے۔اس شعر میں پہلے مصرعہ میں طَاعِمٍ کافر کی طرح مفرد آیا ہے لیکن دوسرے مصرعہ میں جِیَاعٍ جمع کا صیغہ آیا ہے گویا ایک ہی شعر میں دونوں طرح کا محاورہ استعمال ہو گیا ہے۔جب صفت نکرہ افعل التفضیلکا مضاف الیہ ہو تو فَرَّاء کے نزدیک مَنْ کے بعد فعل استعمال کر کے اس کے معنے کئے جاتے ہیں مثلاً اس شعر میں طَاعِم کے معنے مَنْ طَعَمَ کئے جائیں گے اور آیت میں کافر کے معنے مَنْ کَفَرَ کئے جائیں گے بعض دوسرے نحویوں نے کہا ہے کہ اس صور ت میں یہ تو جیہ ہو گی کہ اوّل فریق کَافِرٍ بِہٖ یعنی ابتداء ہی میں کفر کرنے والے گروہ میں شامل نہ ہو۔بعض دوسروں نے اس کے یہ معنے کئے ہیں کہ وَلَا یَکُنْ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْکُمْ اَوَّلَ کَافِرٍ بِہٖ تم میں سے ہر ایک اوّل درجہ کے کافروں میں سے نہ بنے۔سیبویہ امام لغت کہتے ہیں کہ ایسے موقعہ پر مفرد نکرہ جمع کے معنے دیتا ہے اور اس جملہ کی ترکیب یوں ہے۔لَاتَکُوْنُوْا اَوَّلَ کَافِرِیْنَ بِہٖ اوّل درجہ کے کافروں میں سے نہ بنو (بحرمحیط، زیر آیت ھٰذا) اس کے یہ معنے نہیں کہ پہلے کافر نہ بنو ہاں دوسروں کے بعد بیشک کفرکرو۔یہ عربی کا محاورہ ہے کہ ایک حصہ جملہ کا بیان کر دیتے ہیں اور دوسرا چھوڑ دیتے ہیں اسے وہ تحسینِ کلام میں سے سمجھتے ہیں اس کے رو سے جملہ یہ ہو گا کہ لَا تَکُوْنُوْا اَوَّلَ کَافِرٍ بِہٖ وَلَا تَکُوْنُوْا اٰخِرَ کَافِرٍ بِہٖ یعنی نہ اس کے کفر میں جلدی کرو اور نہ بعد میں کفر کرو۔اس کی مثال مفسرین اس شعر سے دیتے ہیں ؎ مِنْ اُنَاسٍ لَیْسَ فِیْ اَخْلَا قِھِمْ عَاجِلُ الْفُحْشِ وَلَا سُوْءُ جَزَعٍ وہ شخص ایسے لوگوں میں شامل ہے جن کے اخلاق میں نہ تو فحش میں جلدی کرنا شامل ہے اور نہ سخت گھبرانا۔وہ کہتے ہیں اس کے یہ معنے نہیں کہ فوراً فحش کو اختیار نہیں کرتا بلکہ دیر سے کرتا ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ فحش کو نہ جلدی اختیار کرتا ہے نہ دیر سے۔(بحر محیط زیر آیت ھٰذا)