تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 544

اکیلے تھے اور ان کے دشمنوں نے انہیں ہلاک کرنے کے لئے پورا زور لگایا۔وہ ہر میدان میں کامیاب ہوئے اور کوئی شخص انہیں نقصان نہ پہنچا سکا اور یہ امر اتفاقی طو رپر نہیں ہوا بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے پہلے سے کہہ دیا تھا اور دنیا کو یہ حکم سنا دیا گیا تھا کہ وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ۔(المائدۃ :۶۸) آپ کا دشمنوں کے منصوبوں سے غیر معمولی طور پر محفوظ رہنا ایک ایسا نشان ہے کہ بہت سے سخت دشمنوںکی ہدایت کا موجب ہوا ہے چنانچہ تاریخ کا مشہور واقعہ ہے کہ ہند ابو سفیان کی بیوی فتح مکہ کے بعدجب دوسری عورتوں سے مل کر بیعت کرنے کے لئے آئی اور آپ نے عورتوں سے اقرار لیا کہ ہم شرک نہیں کریں گی۔اس پر ہند جوش سے بول پڑی کہ کیا ہم اب بھی شرک کر سکتی ہیں حالانکہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ تو اکیلا تھا اور ہم لوگ ایک مضبوط جتھا تھے۔ہم نے اپنا سارا زور تجھے تباہ کرنے کے لئے خرچ کیا لیکن باوجود اس کے تجھے ہلاک نہ کر سکے اگر بتوں میں کوئی بھی طاقت ہوتی تو ہم تجھے تباہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے مگر نتیجہ الٹا نکلا۔ہم ہلاک ہوئے اور تو کامیاب۔(الروض الانف فصل فی ذکر کسر الاصنام و طمس التماثیل۔۔۔) اب غور کرو کہ اگر بنو اسمٰعیل میں سے کوئی نبی شریعت کے ساتھ موسیٰ ؑ کے نقشِ قدم پر ظاہر نہ ہوتا، اگر باوجود مخالفت کے وہ خدا کا کلام لوگوںکو نہ سناتا اور سب کا سب کلام نہ سناتا اور اس کے دشمن تباہ نہ ہوتے اور وہ باوجود دشمنوں کے زور اور ان کی مخالفت کے کامیاب نہ ہوتا اور خدا تعالیٰ اس کے منہ میں اپنا کلام نہ ڈالتا تو موسیٰ ؑ کی پیشگوئی کس طرح پوری ہوتی اور اس کی سچائی کس طرح ثابت ہوتی؟ پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی نے موسیٰ علیہ السلام کو جھوٹ کے الزام سے بچایا اور ان کی تصدیق کا موجب ہوئی۔تصدیق نمبر ۳ قرآن اور آنحضرتؐ کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ایک اور پیشگوئی کی تصدیق کرنا موسیٰ علیہ السلام نے ایک اور پیشگوئی کی تھی کہ ’’اس نے کہا کہ خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا۔فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کے لئے تھی۔‘‘ (استثنا باب ۳۳ آیت ۲) اس پیشگوئی میں تین آسمانی نشانوں کا ذکر ہے ایک سینا سے خدا تعالیٰ کے جلوہ گر ہونے کا جس سے حضرت موسیٰ ؑ کی ترقی کی طرف اشارہ ہے دوسرے شعیر سے خدا تعالیٰ کے طلوع کااس میں حضرت مسیح علیہ السلام کے ظہور