تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 543

اَللَّھُمَّ ھَلْ بَلَّغْتُ اے لوگو! خدا تعالیٰ کو گواہ رکھ کر بتائو کیا میں نے خدا تعالیٰ کا حکم پوری طرح دنیا کو پہنچا دیا ہے یا نہیں؟ اس پر سب صحابہ یک زبان ہو کر بولے اَللّٰہُمَ نَعَمْ ہم اللہ تعالیٰ کو گواہ کر کے کہتے ہیں کہ آپ نے خدا تعالیٰ کا پیغام اچھی طرح پہنچا دیا ہے اس پر آپ نے فرمایا اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ۔اے خدا !تو اس پر گواہ رہ کہ یہ سب لوگ اس کی گواہی دیتے ہیں کہ تبلیغ کلام الٰہی کا کام میں نے پورا کر دیا۔( سیرة النبی لابن ہشام۔خطبۃ الرسول فی حجۃ الوداع) اس پیشگوئی کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ چونکہ موعود نبی خاتم النبین ہونے والا تھا اس پر جو دینی وحی ہو گی دنیا کو پہنچانے کے لئے ہوگی تاکہ دین کا کوئی حصہ نامکمل نہ رہ جائے۔اس سے پہلے کے نبیوں کا یہ حال نہ تھا ان پر دین کے بعض اسرار کھولے جاتے تھے مگر انھیں ان کے بتانے کی اجازت نہ ہوتی تھی کیونکہ ان کے زمانہ کے لوگ اس کے سمجھنے کے قابل نہ ہوتے تھے گو نبی کا ترقی یافتہ دماغ اسے سمجھنے کے قابل ہوتا تھا۔پس یہ کہنا کہ وہ نبی سب کچھ جو اسے کہا جائے گا لوگوں سے کہہ دے گا۔اس کے یہ معنے ہیں کہ اس کے زمانہ میں انسانی دماغ مکمل ہو چکا ہو گا اور آخری اور کامل شریعت جو تمام اسرار روحانی پر مشتمل ہوگی اسے دے دی جائے گی اور اسے حکم دیا جائے گا کہ وہ اپنی امت کو سب باتیں سکھا دے کیونکہ وہ ان کے سننے کے اہل ہیں۔ان معنوں کی طرف انجیل میں بھی اشارہ ہے حضرت مسیح فرماتے ہیں’’میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تم سے کہوں۔پر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی روح حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتا وے گی۔‘‘ (یوحنا باب ۱۶ آیت ۱۲ و ۱۳)۔اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ؑ نے اپنی سب وحی لوگوں کو نہ سنائی کیونکہ وہ ان کے لئے خاص تھی ان کی امت اسے سمجھنے کے قابل نہ تھی لیکن انہوں نے یہ خبر دے دی کہ ان کے بعد ایک روح حق آئے گی وہ لوگوں کو سب باتیں سنا وے گی کیونکہ اس وقت لوگ سب باتوں کے سمجھنے کے قابل ہو جائیں گے گویا وہ روح حق خاتم النبیّین کے مقام پر فائز ہو گی۔(ھ ) پیشگوئی کا یہ حصہ کہ وہ آنے والا جو کچھ کہے گا خدا کا نام لے کر کہے گا اس طرح پورا ہوا ہے کہ قرآن کریم کی ہر سورۃ سے پہلے بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کی آیت رکھی گئی ہے جس کے معنے ہیں میں اللہ جو رحمٰن و رحیم ہے اُس کا نام لے کر اس کلام کو پیش کرتا ہوں (و) پیشگوئی کا یہ حصہ کہ اس کے منکر ہلاک ہوں گے جس شان سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت پورا ہوا ہے اس کے دشمن بھی معترف ہیں گو وہ اسے دنیوی سامانوں کی طرف منسوب کرتے ہیں جو ایک خلافِ عقل و خلاف واقعہ اعتراض ہے (ز) پیشگوئی کا یہ حصہ کہ جو شخص اس پیشگوئی کا جھوٹا مصداق بنے گا اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کر دے گا نہایت شان سے پورا ہوا۔باوجود اس کے کہ محمد رسول اللہ صلعم