تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 541

میں سے یعنی بنو اسمٰعیل میں سے ایک نبی کھڑا کیا جائے گا (ب) وہ موسیٰ کی مانند ہو گا یعنی صاحب شریعت ہو گا اور اس کے واقعات حضرت موسیٰ کے واقعات سے ملتے جلتے ہوں گے (ج) اس کی زبان پر خدا تعالیٰ کا کلام جاری ہو گا یعنی اس کا الہام کل کا کل لفظی ہو گا یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کے حکم کو اپنے الفاظ میں بیان کرے (د) وہ خدا تعالیٰ کے کلام کو نڈر ہو کر لوگوں کے سامنے بیان کرے گا اور سارا کلامِ الٰہی لوگوں کو سنائے گا (ھ) اور جو الہام سنائے گا خدا کا نام لے کر سنائے گا اورشرک کی تردید کرنے والا ہو گا (و) اس کے منکر عذابِ الٰہی میں مبتلا ہوں گے (ز)اگر کوئی شخص اس پیشگوئی کا جھوٹا مصداق بننے کی کوشش کرے گا تو خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ وہ ہلاک ہو جائے (یاد رہے کہ انگریزی زبان میں اس جگہ یہ الفاظ ہیں He shall die یعنی وہ ہلاک ہو گا نہ کہ وہ قتل کیا جائے جیسا کہ اُردو میں ہے)۔ان پیشگوئیوں کے مطابق (الف) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو اسمٰعیل میں سے یعنی بنو اسرائیل کے بھائیوں میں سے ظاہر ہوئے۔(ب) آپ نے مثیلِ موسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہےاِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا(المزّمل:۱۶) ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھجوایا ہے جو تم پر گواہ ہے اسی طرح جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھجوایا تھا یعنی موسیٰ ؑ۔آپؐ موسیٰ علیہ السلام کی طرح صاحب شریعت نبی تھے اور آپؐ کے حالات حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بڑی مشابہت رکھتے ہیں یعنی ایک کامل شریعت آپؐ کو دی گئی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح آپؐ سے وعدہ کیا گیا کہ آپؐ کی امت میں سے متواتر مجدّدین آتے رہیں گے اور یہ کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کا آخری خلیفہ حضرت مسیح تھے اسی طرح قریباً اتنا ہی عرصہ آپؐ کے بعد ایک آپؐ کا خلیفہ ظاہر ہوگا جو مسیح کے نام سے موسوم کیا جاسکے گا چنانچہ اس پیشگوئی اور مشابہت کے مطابق حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے اتناہی عرصہ بعد بانی ٔسلسلہ احمدیہ مسیح موعود بن کر خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوئے (ج) آپ نے دعویٰ کیا کہ خدا تعالیٰ کا کلام آپ کی زبان پر جاری ہے یعنی اپنی وحی کے جو الفاظ آپ پیش کرتے ہیں وہ بعینہٖ وہ الفاظ ہیں جو آپ کے دل پر نازل ہوئے۔تمام گزشتہ نبیوں کی کتب کو پڑھ کر دیکھ لو ان میں خدا کا کلام کم اور بندہ کا زیادہ ہوتا ہے۔انجیل میں تو شاید ایک دو فقرے ہی خدا کے ہیں باقی سب کچھ مسیح کا اپنا کلام یا انجیل کے داستان نویسوں کا نوشتہ ہے صرف قرآن کریم ہی وہ کتاب ہے کہ الف سے یاء تک خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی آنحضرت ؐ کے متعلق غرض میں اپنا کلام اس کے مُنہ میں ڈالوں